.

ٹرمپ کابینہ میں "وزیر خارجہ" کے لیے تین امیدوار کون ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدارتی انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ کی جیت کے بعد تمام تر نظریں اب ان کی آئندہ حکومت کے اہم عہدوں کی جانب مرکوز ہو گئی ہیں۔ بالخصوص وزیر خارجہ کا منصب جس کے لیے امریکی میڈیا نے تین امیدواروں کے ناموں کا ذکر کیا ہے۔ ان میں اقوام متحدہ میں امریکا کے سابق مندوب جان بولٹن ، امریکی ایوانِ نمائندگان کے سابق اسپیکر نیوٹ گینگرچ اور سینیٹ میں خارجہ تعلقات کی کمیٹی کے سربراہ بوب کروکر شامل ہیں۔

وزارت خارجہ کا قلم دان سنبھالنے والی تین متوقع سیاسی شخصیات

* نیوٹ گینگرچ : ماضی میں امریکی ایوان نمائندگان میں اسپیکر کا منصب سنبھال چکے ہیں۔ انہوں نے پیرس میں ایرانی اپوزیشن کی کانفرنس میں شرکت کی تھی اور اس سے قبل نیوکلیئر معاہدے کو پھاڑ ڈالنے کا مطالبہ بھی کر چکے ہیں۔ وہ ایران میں موجودہ نظام کے سقوط پر زور دیتے ہیں۔ گینگرچ نے تہران کو مالی رقوم کی فراہمی کی سخت مخالفت کی اور ایران پر الزام عائد کیا کہ وہ امریکا کی جانب سے آزاد کی جانے والی رقوم کو دہشت گردی کی سپورٹ میں استعمال کرے گا۔ اس کے باوجود کہا جاتا ہے کہ گینگرچ بعض مواقف بالخصوص معیشت کے حوالے سے ٹرمپ کی مخالفت کرتے ہیں۔

امریکی ویب سائٹPolitical Insider کے مطابق ٹرمپ کی آئندہ حکومت کے وزراء کی ٹیم میں شمولیت کے لیے گینگرچ سب سے مضبوط امیدوار ہیں جن کو وزارت خارجہ کی ذمے داری دیے جانے کا امکان ہے۔

*بوب كروكر : ریپبلکن پارٹی کے ایک اہم رکن اور ریاست ٹینیسی کے نمائندہ ہیں۔ اس وقت امریکی سینیٹ میں خارجہ تعلقات کی کمیٹی کے سربراہ ہیں۔ انہوں نے خود وزارت خارجہ کا منصب سنبھالنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ وہ عراق سے امریکی فوج کے انخلاء کے مخالف ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ یہ اقدام عراق کے حالات بہتر ہونے کی صورت میں کیا جانا چاہیے۔

کروکر یوکرین میں مداخلت کے سبب روس پر دباؤ کو دوگنا کرنے پر زور دیتے ہیں۔ ایران پر سے پابندیاں اٹھائے جانے کے حوالے سے کروکر کا کہنا ہے کہ یہ ایک بڑا خطرہ ہے جو امریکی انتظامیہ مول لے رہی ہے۔

اس سلسلے میں The Hill ویب سائٹ کا کہنا ہے کہ بوب کروکر آئندہ ٹرمپ حکومت میں وزیر خارجہ کا منصب سنبھالنے کے حوالے سے اولین امیدوار ہیں۔

*جان بولٹن : اقوام متحدہ میں امریکا کے سابق سفیر رہ چکے ہیں۔ بولٹن ہمیشہ سے مشرق وسطی میں امریکا کے دوستوں کو برقرار رکھنے پر زور دیتے رہے ہیں۔ وہ ایران اور شام کی حکومتوں کے نمایاں ترین مخالفین میں سے ہیں۔ انہوں نے گزشتہ دہائی میں امریکی وزارت خارجہ میں کام بھی کیا۔

ایران کے خلاف شعلہ بیانی کے سببب مشہور جان بولٹن کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ انہیں وزیر خارجہ بنانے کے خواہش مند ہیں۔

بولٹن تہران حکومت کے ساتھ طے پائے جانے والے نیوکلیئر معاہدے کی شدید مخالفت کرتے ہیں۔