.

اسرائیل:حماس سے تعاون کے الزام میں برطانوی شہری گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل کی ایک ملٹری اپیل کورٹ نے لبنانی نژاد برطانوی شہری کو دوبارہ حراست میں لینے کا حکم دیا ہے جس پر الزام ہے کہ وہ فلسطینی تنظیم اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ کو رقوم اور موبائل فون مہیا کرنے میں ملوث رہا ہے۔

عبرانی ریڈیو کی رپورٹ کے مطابق’عوفر‘ نامی فوجی عدالت کی طرف سے پولیس سے کہا گیا ہے کہ وہ 49 سالہ ملزم فائز شراری کو جو 11 ستمبر کو مقبوضہ مغربی کنارے میں داخل ہوئے تھے کو حراست میں لے کر عدالت میں پیش کرے۔

خیال رہے کہ لبنانی نژاد برطانوی شہری فائز شراری 11 سمتبر کو اردن کے راستے مقبوضہ فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے میں داخل ہوئے تھے۔ چار روز بعد جب وہ واپس جانے لگے تواسرائیلی فوج نے انہیں اردن اور فلسطینی علاقے مغربی کنارے کے درمیان رابطے کے لیے استعمال ہونے والے شاہ حسین پل سے حراست میں لے لیا تھا۔ شراری کے وکیل رمزی قتیلات نے اپنے موکل کی گرفتاری کی تصدیق کی ہے اور بتایا کہ صہیونی حکام نے فائز شراری پر حماس کو رقوم اور موبائل فون مہیا کرنے کے الزام میں گرفتار کیا ہے۔

البتہ اسرائیل کی فوج داری عدالت نے اتوار کے روز انہیں حماس کو 50 ہزار یورو اور دو موبائل فون ایک کالعدم تنظیم تک پہنچانے کے الزامات مسترد کرتے ہوئے شراری کو رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔ رمزی قتیلات کا کہنا ہے ان کے موکل سے اسرائیلی تفتیش کاروں نے تشدد کے ذریعے اعتراف جرم کرانے کی کوشش کی تھی مگر انہوں نے عدالت میں خود کو بے قصور ثابت کیا تھا۔

منگل کو اسرائیلی ملٹری پراسیکیوٹر جنرل نے فائز شراری کی گرفتاری روکنے کے لیے ایک درخواست دی تھی جسے عدالت نے منظور کرتے ہوئے قانونی کارروائی مکمل ہونے تک اسے دوبارہ حراست میں رکھنے کا حکم دیا ہے۔