.

افغانستان میں امریکی فوجی اڈے پر طالبان کا حملہ، چار ہلاکتیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغانستان میں تعینات امریکی فوج کے زیر استعمال سب سے بڑے فوجی اڈے کے اندر ہونے والے ایک دھماکے کے نتیجے میں کم از کم چار افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ اس حملے کی ذمہ داری طالبان نے قبول کی ہے۔

افغان دارالحکومت کابل سے شمال کی جانب واقع انتہائی سکیورٹی کی حامل بگرام ایئر فیلڈ کے اندر یہ دھماکا ہفتہ کو علی الصباح ہوا۔ یہ دھماکا ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب افغان طالبان نے ملک بھر میں اپنی کارروائیوں میں اضافہ کر رکھا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق اس دھماکے میں ہلاک ہونے والے افراد کی قومیت کے بارے میں فوری طور پر معلوم نہیں ہو سکا۔ مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق، ’’بگرام ایئر فیلڈ کے اندر ایک دھماکا ہوا جس کی وجہ سے چار افراد ہلاک جبکہ 14 دیگر زخمی ہوئے۔‘‘ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اس فوجی اڈے پر موجود امدادی ٹیمیں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کر رہی ہیں جبکہ دھماکے کے سلسلے میں تحقیقات کا آغاز بھی کر دیا گیا ہے۔

افغان صوبہ پروان کے گورنر کے ترجمان وحید صدیقی کے مطابق یہ دھماکا ایک خودکش حملہ آور کی جانب سے کیا گیا۔ بگرام صوبہ پروان کا دارالحکومت ہے۔ وحید صدیقی نے اے ایف پی کو بتایا، ’’ہمیں متاثرہ افراد کی قومیت کا تو نہیں پتہ البتہ دھماکا کرنے والا ممکنہ طور پر ایک افغان مزدور تھا جو وہاں کام کرتا تھا۔‘‘

بگرام کے ڈسٹرکٹ گونر عبدالشکور قدسی کے مطابق یہ دھماکا عالمی وقت کے مطابق شب ایک بجے ہوا اور یہ اس قدر شدید تھا کہ اس کی گونج پورے علاقے میں سنی گئی۔

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کے مطابق بگرام ایئربیس میں ہونے والے اس خودکش حملے کے پیچھے اس عسکریت پسند گروپ کا ہاتھ ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس حملے میں ’’امریکی حملہ آوروں کا بھاری نقصان‘‘ ہوا ہے۔

کابل کے قریب واقع بگرام ایئربیس پر طالبان کی طرف سے پہلے بھی حملے ہو چکے ہیں۔ گزشتہ برس دسمبر میں اس فوجی اڈے کے قریب ایک موٹر سائیکل پر سوار ایک خودکش حملہ آور کے حملے میں چھ امریکی فوجی ہلاک ہو گئے تھے۔ یہ حملہ 2015ء کے دوران غیر ملکی فوجیوں پر ہونے والے خونی ترین حملوں میں سے ایک تھا۔