.

روس: حملوں کی سازش پر داعش کے 10 مشتبہ وابستگان گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روس کی وفاقی سکیورٹی سروس (ایف ایس بی) نے سخت گیر جنگجو گروپ دولت اسلامیہ عراق وشام (داعش) سے روابط رکھنے کے الزام میں دس مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔وہ وسط ایشیا سے تعلق رکھتے ہیں اور ان پر دارالحکومت ماسکو اور دوسرے بڑے شہر سینٹ پیٹرزبرگ میں خودکار آتشیں ہتھیاروں اور گھریلو ساختہ بموں سے حملوں کی سازش کا الزام عاید کیا گیا ہے۔

ایف ایس بی نے ہفتے کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ ان دس افراد کی گرفتاری تاجکستان اور کرغیزستان کے حکام کی مدد سے عمل میں آئی ہے۔وہ روس کے مذکورہ دونوں شہروں میں عوامی مقامات پر حملوں کی منصوبہ بندی کررہے تھے۔

روسی وزیراعظم دمتری میدویدیف نے نومبر کے اوائل میں کہا تھا کہ اس وقت ہزاروں روسی شہری شام میں صدر بشارالاسد کی مخالف فورسز کے ساتھ مل کر لڑرہے ہیں۔انھوں نے خبردار کیا تھا کہ یہ افراد وطن میں لوٹنے کی صورت میں حملے کرسکتے ہیں۔

واضح رہے کہ زرخیز اور گنجان آباد وادیِ فرغانہ وسط ایشیا میں عسکریت پسندی کا مرکز خیال کی جاتی ہے۔یہ وسیع وعریض وادی ازبکستان ،تاجکستان اور کرغیزستان کے سنگم پر واقع ہے۔ تاجکستان کی سرحدیں جنگ زدہ افغانستان کے ساتھ ملتی ہیں۔اس وجہ سے جنگجوؤں کا افغانستان سے اس ملک میں آنا جانا لگا رہتا ہے اور اس کو جنگجوؤں کی آماج گاہ خیال کیا جاتا ہے۔

یاد رہے کہ روس کی اس سکیورٹی ایجنسی نے کچھ عرصہ قبل سات مشتبہ افراد کو گرفتار کیا تھا۔ وہ بھی مبینہ طور پر ماسکو ،سینٹ پیٹرزبرگ اور سوردلوفسک کے علاقے میں بم حملوں کی منصوبہ بندی کررہے تھے۔ان میں بعض روسی شہری تھے اور بعض وسط ایشیائی ریاستوں سے تعلق رکھتے تھے۔

اس گروپ پر دہشت گردی کی سازش ،غیر قانونی اسلحے اور دھماکا خیز مواد رکھنے کے الزام میں فردِ جُرم عاید کی گئی تھی۔اس گروپ کی قیادت داعش کا ایک جنگجو کررہا تھا۔وہ ترکی سے روس مِیں آیا تھا لیکن روسی ادارے نے اس کے بارے میں مزید کوئی تفصیل جاری نہیں کی تھی۔