.

حوثی ملیشیا کا جامعہ صنعا میں احتجاج کرنے والے اساتذہ پر حملہ

یمن بھر کی جامعات کے اساتذہ تنخواہیں نہ ملنے پر حوثیوں کے خلاف سراپا احتجاج بن گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے دارالحکومت صنعا میں حوثی ملیشیا نے جامعہ صنعا میں تین مہینے سے تن خواہیں نہ ملنے پر احتجاج کرنے والے اساتذہ اور محققین پر دھاوا بول دیا ہے اور ان کی اس تشدد آمیز کارروائی کے خلاف احتجاج کے طور پر جامعہ کے نائب صدر ڈاکٹر محمد شکری اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے ہیں۔

العربیہ نیوز چینل کو ذرائع نے بتایا ہے کہ جامعہ صنعا کے صدر فوزی الصغیر نے بھی پروفیسروں اور محققین پر حوثی ملیشیا کے اس حملے میں حصہ لیا ہے۔حوثی ملیشیا ہی نے انھیں جامعہ کے اس بڑے عہدے پر مقرر کیا تھا اور انھوں نے اپنے ہم پیشہ افراد کے خلاف حوثی باغیوں کی کارروائیوں میں حصہ لے کر حقِ نمک ادا کردیا ہے۔

یمنی جامعات کی اساتذہ یونین کی رابطہ کونسل نے ہفتے کے روز دارالحکومت صنعا میں حوثی شیعہ ملیشیا اور ان کے اتحادی معزول صدر علی عبداللہ صالح کے خلاف احتجاجی مظاہروں کا اہتمام کیا تھا اور ان کے تحت انتظامیہ سے تنخواہیں ادا کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

جامعہ صنعا کی اساتذہ یونین کے سربراہ محمد الزہری نے کہا ہے کہ سرکاری جامعات میں ٹیچنگ یونین کی رابطہ کونسل نے تن خواہوں کی عدم ادائی پر حوثیوں اور علی صالح کے خلاف احتجاجی مظاہروں کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کا مقصد حوثی ملیشیا کے تحت انتظامیہ پر تمام جامعات کے ملازمین کو ان کے واجبات کی ادائی کے لیے دباؤ ڈالنا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ نو سرکاری جامعات میں احتجاجی مظاہرے کیے جارہے ہیں۔وہ متعلقہ حکام کو یہ باور کرا دینا چاہتے ہیں کہ اب صورت حال ان کے لیے قابل برداشت نہیں رہی ہے، اس لیے وہ ان کے مسائل اور مشکلات کا خاتمہ کریں اور انھیں ان کے واجبات ادا کریں۔ حوثی ملیشیا نے گذشتہ تین ماہ سے سرکاری ملازمین کو تنخواہیں ادا نہیں کی ہیں۔