.

پوتن "صحت کے سبب" چند ماہ بعد دست بردار ہو سکتے ہیں !

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ولادیمر پوتن "اقتدار سے دست بردار ہو سکتے ہیں".. جی ہاں اس امکان کا اظہار معروف سیاسی تجزیہ کار Valery Solovey نے کیا ہے۔ 56 سالہ پروفیسر "روسی اکیڈمی برائے سائنس" کے سرگرم کارکن ہیں اور کرملن امور کے سینئر ماہر شمار کیے جاتے ہیں۔

سولوفی کے مطابق دست برداری کے امکان کی وجہ "صحت اور طبی حالت" ہے۔ انہوں نے اس حوالے سے تفصیلات کا ذکر نہیں کیا تاہم سولوفی کا کہنا ہے اس بنیاد پر پوتن آئندہ برس کئی ماہ تک "منظر عام سے اوجھل ہوسکتے ہیں"۔

64 سالہ روسی صدر پوتن کے بارے میں یہ دھماکا خیز معلومات جمعے کے روز معروف روسی اخبارMoskovskij Komsomolets (MK) میں "ویلری سولوفی" کے انٹرویو میں سامنے آئیں۔ مذکورہ اخبار روسی ایوان صدارت کرملکن کے بہت نزدیک شمار کیا جاتا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اخبار کی ویب سائٹ پر انٹرویو کے نشر ہونے کے چند گھنٹے بعد اسے ہٹا دیا گیا تاہم اس وقت تک انٹرویو کی بازگشت ترجمے کے ساتھ بین الاقوامی ذرائع ابلاغ تک پہنچ چکی تھی۔ برطانوی اخبار ڈیلی میل کے مطابق سولوفی نے توقع ظاہر کی ہے کہ اگر پوتن کی بیماری درست ہوئی تو آئندہ سال پوتن کا جانشیں منتخب کرنے کے لیے ان کی مدت صدارت کے اختتام سے تقریبا ایک برس قبل صدارتی انتخابات کا انعقاد ہو سکتا ہے۔

موقف کی بنیاد

کہا جاتا ہے کہ " ہر افواہ کی کوئی حقیقی بنیاد ہوتی ہے"۔ اگر روسی صدر پوتن کی صحت کے حوالے سے گزشتہ پانچ برسوں کی خبروں کو کھنگالا جائے تو انٹرنیٹ پر متعدد زبانوں میں دو خبریں ملتی ہیں۔ 13 نوفمبر 2012 کو نیوز ایجنسیوں نے روسی وزیر اعظم دمتری مدویدیف کی جانب سے ایک تردید کو نشر کیا تھا۔ دمتری کا کہنا تھا کہ پوتین کسی خطرناک مرض میں مبتلا نہیں ہیں اور ان کے لنگڑانے کی وجہ کھیل کی سرگرمیوں کے دوران معمولی طور پر زخمی ہونا ہے۔ اس سے قبل پوتین کو اسی سال 9 اور 10 ستمبر کو روس کے شہر Vladivostok میں منعقد ہونے والے " Asia-Pacific Economic Cooperation" کے سربراہ اجلاس میں لنگڑاتے ہوئے اور چلنے میں دشواری محسوس کرتے دیکھا گیا تھا۔

جہاں تک دوسری خبر کا تعلق ہے تو وہ مارچ 2015 میں نیوز ایجنسیوں کی جانب سے نشر کی گئی۔ خلاصہ یہ ہے کہ اس زمانے میں روسی صدر پوتین 10 روز تک اعلانیہ طور پر ظاہر نہیں ہوئے تھے۔ اس موقع پر قیاس آرائیاں سامنے آئیں کہ "وہ سرطان یا انفلوئنزا یا برین ہیمرج میں مبتلا ہیں"۔ اس کے جواب میں کرملن کے ترجمان دمتری بیسکوف کی جانب سے سختی کے ساتھ ان افواہوں کی تردید کی گئی۔

حملہ آور ریچھ کو ہلاک کیے بغیر روسی صدر کی جان بچائی

پوتن کے متعلق تازہ ترین انکشاف اور گزشتہ دونوں خبروں کے درمیان بڑا فرق ہے۔ اس لیے کہ حالیہ معلومات کرملکن کے بہت نزدیک شخصیت اور ایوان صدر کے امور کے ماہر نے افشا کی ہیں۔ سولوفی کا انٹرویو 1919 سے جاری اخبار میں شائع ہوا ہے جس کو "ویب سائٹ پر سے ہٹانے سے قبل 50 ہزار افراد نے پڑھا"۔ اس کے علاوہ روس کے ایک خود مختار ریڈیو اسٹیشن Ekho Moscow نے بھی سولوفی کے انٹرویو کا ذکر کیا ہے۔

اخباری انٹرویو میں پوتن کے ممکنہ جانشیں کے طور پر دو نام سامنے آئے ہیں۔ پہلا نام روسی وزیر اعظم دمتری میدیدیف کا ہے جو اس سے پہلے 2012 تک صدر بھی رہ چکے ہیں۔ دوسرا نام 44 سالہAlexei Dyumin کا ہے جو پوتن کی ذاتی سکیورٹی کے ادارے کے سابق سربراہ اور روسی وزیر دفاع کے سابق نائب بھی رہ چکے ہیں۔ وہ روسی فوج میں لیفٹننٹ کے عہدے پر فائز ہیں۔ ایلکس کے بارے میں مشہور ہے کہ انہوں نے ایک مرتبہ پوتن کو ریچھ کے حملے سے بچایا تھا تاہم اس موقع پر ریچھ کو ہلاک نہیں کیا گیا تھا۔