.

کیا سعودی شہری شامی دارالحکومت دمشق جا سکتے ہیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں 2011ء کے وسط سے جاری خانہ جنگی کے آغاز کے بعد سے سعودی عرب اور صدر بشارالاسد کی حکومت کے درمیان تعلقات کشیدہ اور منقطع ہیں۔سعودی عرب شامی دارالحکومت دمشق سے اپنے سفارتی عملے کو واپس بلا چکا ہے اور اس نے اپنے شہریوں کے لیے انتباہ جاری کیا تھا کہ وہ شام کے سفر سے گریز کریں۔

مگر اس کے باوجود سعودی عرب کے مشرقی علاقے میں ٹریول ایجنسیاں شہریوں کو دمشق لے جانے کے لیے پیکجز پیش کررہی ہیں اور انھیں یہ پیش کش کی جارہی ہے کہ وہ پانچ ہزار سعودی ریال ( 1300 ڈالرز) کے عوض میں دمشق میں دو ہفتے کی تعطیلات گزار سکتے ہیں۔

یہ ٹریول ایجنسیاں دو روٹس کے ذریعے سعودی شہریوں کو دمشق پہنچانے کی پیش کش کررہی ہیں۔اول ،انھیں کسی خلیجی ملک سے براہ راست پرواز کے ذریعے دمشق کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر لے جایا جا سکتا ہے۔

دوسرا روٹ سعودی عرب سے براہ راست پرواز کے ذریعے لبنانی دارالحکومت بیروت کے رفیق حریری بین الاقوامی ہوائی اڈے پر اُترنا ہے اور وہاں سے پھر بذریعہ سڑک سعودیوں کو دمشق لے جایا جائے گا۔بیروت سے دمشق کا فاصلہ صرف 113 کلومیٹر ہے۔

سعودی روزنامے عکاظ میں شائع شدہ ایک رپورٹ کے مطابق ان ٹریول ایجنسیوں کا کہنا ہے کہ وہ کسی قانون کی خلاف ورزی کی مرتکب نہیں ہو رہی ہیں کیونکہ شامی کسٹمز کے حکام کسی وزیٹر کے پاسپورٹ پر ملک میں آمد پر کوئی مہر نہیں لگاتے ہیں۔اس کے بجائے وہ ایک الگ کاغذ پر مہر لگاتے ہیں، بالکل اسی انداز میں جس طرح اسرائیلی کسٹمز کے حکام پاسپورٹ کے بجائے الگ کاغذ پر مہر ثبت کرتے ہیں۔

اس وقت سعودی شہریوں کو قانونی طور پر شام میں جانے کی اجازت نہیں ہے۔ سعودی عرب کے محکمہ پاسپورٹ جنرل کے مطابق ''شام ان ممالک کی فہرست میں شامل ہے جہاں کا سفر اختیار نہیں کیا جاسکتا ہے''۔ سعودی شہریوں پر شام کے علاوہ اسرائیل ،ایران ،عراق ،تھائی لینڈ اور یمن جانے پر بھی پابندی عاید ہے۔