.

یورپی یونین کی تعاون کے لیے ایران کو 10 شرائط پیش

حزب اللہ سے ناطہ توڑنا اہم ترین شرط قرار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے نیم سرکاری ذرائع ابلاغ نے انکشاف کیا ہے کہ یورپی یونین نے تہران کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے 10 اہم شرائط عاید کی ہیں۔ ان میں ایک بڑی شرط لبنانی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کی سرپرستی ختم کرنا بھی شامل ہے۔

ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے مقرب فارسی نیوز ویب پورٹل ’فارس نیوز‘ اور کئی دوسرے اخبارات نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ یورپی یونین کی طرف سے تہران سرکار کو بتا دیا گیا ہے کہ اس کے جوہری پروگرام پر سمجھوتہ طے پانے کےبعد ایران کو مزید کچھ اقدامات کرنا ہوں گے۔ ان میں حزب اللہ کی سرپرستی بند کرنا بھی شامل ہے۔ فارس نیوز اور دیگر ذرائع ابلاغ نے یورپی یونین کی شرائط کو ’شرمناک‘ قرار دیتے ہوئے انہیں مسترد کرنے کا مطالبہ بھی داغ دیا ہے۔ فارس نیوز نے اخبار ’’رسالت‘‘ میں چھپنے والی ایک خبر کا بھی حوالہ دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ یورپی یونین نے ایران پر تعلقات بہتر بنانے کے لیے جو شرایط عاید کی ہیں ان میں خطے میں مزاحمت کی محور’’حزب اللہ‘‘ کی سرپرستی ختم کرنے کی شرط بھی شامل ہے۔

شرائط کے سامنے آنے سے قبل ایران میں میزائل تجربات اور انسانی حقوق کی بگڑتی صورت حال پر بھی یورپ تشویش کا اظہار کرچکا ہے۔ اس پر ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان بہرام قاسمی نے ایک بیان میں کہا تھا کہ انسانی حقوق کی پامالیوں کا معاملہ ایران کا اندرونی کیس ہے تاہم ان کا کہنا تھا کہ تہران یورپی یونین کے ساتھ بات چیت کو آگے بڑھانے کے لیے تیار ہے۔

فارسی اخبار ’’رسالت‘‘ میں یورپی یونین کی جن دس شرائط کا ذکر کیا گیا ہے وہ درج ذیل ہیں۔

ایران فینانشیل ایکشن گروپ میں شامل ہونے کے ساتھ ساتھ اس کے تمام ضوابط اور معاہدوں کی پابندی کرے۔

تیل اور گیس کی یورپ کو سپلائی کی ضمانت دی جائے۔

ایران میں دہری شہریت رکھنے والے افراد کے خلاف انتقامی کارروائیاں بند کی جائیں۔

حزب اللہ کی مدد اور معانت ترک کی جائے۔

میزائل تجربات کو محدود کیا جائے۔

شام کے بحران کے حل کے لیے ٹھوس تعاون کیا جائے۔

سیاسی اصلاحات کے ساتھ ملک میں آزادانہ انتخابات کا اہتمام کیا جائے۔

اقوام متحدہ کی رپورٹس کی روشنی میں انسانی حقوق کے معاہدوں کا احترام کیاجائے۔

تمام سیاسی قیدیوں کو فوری رہا کیا جائے۔

آزادی اظہار پر قدغنیں نہ لگائی جائیں۔ پھانسی کی سزائیں ختم کرنے کے لیے عدالتی اصلاحات کی جائیں اور بنیادی شہری آزادیوں کو یقینی بنایا جائے

ایران کے بعض ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ فیڈریکا موگرینی نے کچھ روز قبل تہران کا دورہ کیا تھا۔ اس دورے کے دوران بھی انہی شرائط پر فریقین میں بات چیت ہوئی ہے۔ اگرچہ ایران کے سرکاری ذرائع ابلاغ نے بتایا تھا کہ موگرینی صرف شام کے بحران پر صلاح مشورے کے لیے تہران آئی تھیں۔