.

امریکی صدارتی الیکشن کی تھکا دینے والی کوریج کا احوال!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا میں 8 نومبر 2016ء کو منعقد ہونے والے صدارتی انتخابات کئی اعتبار سے تاریخی قرار دیے جائیں گے۔ صرف اس لیے نہیں کہ اس میں ڈونلڈ ٹرمپ اور ہیلری کلنٹن کے درمیان مقابلہ تھا بلکہ شاید تاریخ میں پہلی بار امریکا کے صدارتی الیکشن کی وسیع پیمانے پر میڈیا کوریج کی جا رہی تھی۔

’’العربیہ‘‘ چینل کی ٹیم نے بھی صدارتی انتخابات سے قبل اس کی کوریج کے لیے اپنے لنگ لنگوٹ کس لیے تھے۔ یہ ایک تھکا دینے والی طویل اور مشکل کوریج تھی جس میں ایک ہی وقت میں کئی طرح کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

نیویارک میں موجود ’’العربیہ‘‘ کی نامہ نگار نادیہ البلبیسی نے مسلسل 20 گھنٹے کی کوریج کا احوال بیان کیا ہے۔

نامہ نگار نے بتایا کہ انتخابات کے انعقاد سے قبل اور انتخابی مہم کے آخری وقت میں یہ معلوم نہیں ہو رہا تھا کہ ری پبلیکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کہاں قیام کررہے ہیں۔ انتخابی نتائج کے وقت وہ کہاں پائے جاسکتے ہیں۔ ایک خبر یہ آئی کہ ٹرمپ فلوریڈا میں پام سپرنگ میں اپنی سیرگاہ میں ہوسکتے ہیں۔ جب کہ ایک افواہ یہ چھوڑی گئی کہ ڈونلڈ ٹرمپ واشنگٹن ڈی سی میں واقع اپنے نئے ہوٹل میں قیام کریں گے۔

پولنگ سے چند روز قبل تصدیق ہوگئی کہ ڈونلڈ ٹرمپ نیویارک میں ہوں گے۔ اس لیے العربیہ کی ٹیم نے بھی نشریات اور کوریج سے متعلق تمام ضروری سامان باندھا اور واشنگٹن میں یونین اسٹیشن سے نیویارک کے اسٹیشن کے لیے روانہ ہوگئے۔

منگل کو جب العربیہ کی کیمرہ ٹیم ’’بروکلین‘‘ میں داخل ہوئی تو ہم سن کر حیران رہ گئے پولنگ اسٹیشن کے اندر تصویر اتارنے پر پابندی عاید کی گئی ہے۔ یہاں ہر ریاست کا اپنا ایک خاص قانون رائج تھا۔

جب العربیہ کی ٹیم کو بروکلین کے اندر جانے سے روک دیا تو میڈیا کارکنان کے پاس سخت ترین سردی میں باہر ٹھٹھڑنے کے سوا اور کوئی چارہ باقی نہیں رہا تھا۔ تاہم اس کے باوجود ہم پہلی براہ راست نشریات پیش کرنے میں کامیاب رہے۔ حالات بہت پیچیدہ تھے۔ ہمارے پاس چار چار گھنٹے مسلسل کھڑے رہنےسوا کوئی چارہ کار نہ تھا۔

میک اپ بیگ اور منجمد کردینے والی سردی

نادیا البلبیسی کا کہنا ہے کہ سردی امریکا میں صدارتی انتخابات کے دوران سردی بہت زیادہ تھی۔ کیمروں کے سامنے بے حس وحرکت کئی گھنٹے کھڑا رہنا بہت مشکل ہو رہا تھا۔ سردی سے میرا تو بہت برا حال تھا۔ ہم اپنے ساتھ پانی کی بوتلیں بھی نہیں لاسکے تھے۔ میں اپنا میک اپ بیگ ساتھ لانا بھول گئی تھی۔ مسلسل سردی میں کھڑا رہنے سے میرے چہرے کا رنگ زرد پڑ رہا تھا۔ مگر صرف یہ خوف لاحق تھا کہ ابھی پولنگ اسٹیشن کا کوئی عہدیدار باہر نکل کرہمیں لائیو کوریج سے روک دے گا۔ جب انتظامیہ کی طرف سے پولنگ اسٹیشن کے اندر اور باہر جگہ جگہ بڑے بڑے نوٹس چسپا کردیے گئے جن میں جلی حروف میں لکھا گیا تھا کہ یہاں تصویر اتارنا منع ہے۔ تاہم ہم نے ان نوٹس کو نظرانداز کرتے ہوئے ووٹروں کی آمد ورفت پر کیمرے لگائے رکھے۔

وقت کے ساتھ مقابلے کی سخت دوڑ

انتخابی ہنگامی آرائی میں ہمارے پاس وقت بہت کم اور کام بہت زیادہ تھے۔ دن کے وسط میں ہمارے پاس ٹرمپ ٹاور کے باہر سے براہ راست نشریات کے لیے صرف ایک گھنٹے کا وقت تھا۔ ہم نے ٹیکسی کرائے پرلی اور مین ہٹن میں ٹرمپ ٹاور سے براہ راست کوریج کے لیے پہنچ گئے۔

یہاں بھی معاملہ اتنا آسان نہ تھا۔ پولیس نے جگہ جگہ ناکے لگا کر علاقے کو سیل کردیا تھا۔ ٹاور کی طرف جانے والی تمام سڑکیں بند تھیں۔ ہزاروں کی تعداد میں پولیس اہلکاروں نے راستوں کو گھیرے میں لے رکھا تھا۔ وقت تیزی کے ساتھ گذر رہا تھا اور ہمارے پاس لائیوکوریج کے لیے صرف پونا گھنٹا باقی رہ گیا تھا۔

بغیر اجازت کوریج کے خطرات

ٹرمپ ٹاور کے سامنے سے میڈیا کوریج ایک مشکل مرحلہ تھا۔ پولیس کی طرف سے کوریج کی اجازت نہیں تھی۔ اس کے باوجود ہم نے لائیو کوریج کا سامان، کیمرے، بیٹریاں اور کیبلیں بیگوں میں ڈالیں اور آگے بڑھنے لگے۔ ایک پولیس اہلکار سے ٹرمپ ٹاور کے سامنے کوریج کے لیے جانے کی اجازت مانگی تو اس نے اجازت دینے سے انکار کردیا۔ بغیر اجازت کے کوریج کے خطرات کا ہمیں بہ خوبی اندازہ اور ادراک تھا۔ آخر کار ہم نے بغیر اجازت ہی کوریج کا فیصلہ کیا۔ ہم نے ایک جگہ کیمرے نصب کرنا شروع کیے تو فورا ہی سادہ کپڑوں میں ملبوس ایک اہلکارنے پکڑ لیا۔ اس نے کانوں کے ساتھ وائر لیس فون لگا رکھا تھا جس سے اندازہ ہوتا تھا کہ وہ خفیہ پولیس کا اہلکار ہے۔ لے دے کے بعد اس نے 10 منٹ کی کوریجن کی اجازت دے دی، ہم نے بھی پولیس اہلکار کی طرف سے ملنے والی اجازت کو غنیمت سمجھا۔

میں نےاپنے کیمرہ مین لوئی کو ہدایت کی کہ وہ اپنا کیمرہ مین ہٹن کی سڑکوں کی طرف موڑے اور فول پروف سیکیورٹی اور سڑکوں پر بڑی تعداد میں ٹرمپ کے حامیوں کو دکھائے۔ ابھی ہم نے لائیو کوریج شروع ہی کی تھی ایک دم سے ہمارے سامنے ایک لمبا تڑنگا اور دیو قامت شخص آن کھڑا ہوا۔ یہ بھی خفیہ پولیس کا کوئی افسر تھا۔ پہلی نظر میں تو مجھے ایسے لگا کہ اس کا قد مجھ سے دو گنا بڑا ہے۔

گرفتاری کی دھمکی

العربیہ کی نامہ نگار کا کہنا ہے کہ لمبے تڑنگے پولیس اہلکار نے چھوٹتے ہی انتہائی کرخت لہجے میں کہا کہ یہاں سے نکل جائو۔ میں نے اسے کہا کہ ہم یہاں سے لائیو کوریج کررہے ہیں اور ہم نے اس کے لیے اجازت لے رکھی ہے۔ مگر اب کی بار قسمت ہمارا ساتھ نہیں دے رہی تھی کیونکہ دیو قامت پولیس اہلکار ہمیں وہاں سے نکال باہر کرنے پر مصر تھا۔ وہ میرے اور کیمرے کے درمیان آن کھڑا ہوا۔ ہمارے پاس اس کے سوا اور کوئی چارہ نہیں تھا کہ ہم تصویر کے بغیر ہی حالات و واقعات بیان کریں۔ پولیس اہلکار نے دھمکی دی کہ اگر ہم ایک منٹ بھی رہاں رکے رہے تو میں گرفتار کرلیا جائے گا۔

پولیس اہلکار کی دھمکی کے بعد ہم تیسری بار پھر سڑکوں پرنکلنے پرمجبور تھے۔اب ہمارے لیے ایک پریشانی یہ بھی تھی کہ ہمارے کیمروں کی بیٹریاں خالی ہوچکی تھیں۔ ہمیں اپنے موبائل فون کو ری چارج کرنے کا بھی موقع نہیں مل رہا تھا۔

’’ہاٹ ڈاگ سینڈوچ‘‘

مین ہٹن کی سڑک پر چلتے ہوئے اچانک پولیس وردی میں ملبوس ایک اہلکار نے چیخ کر کہا کہ یہاں کیمرہ کندھ پر رکھ کر چلنے کی اجازت نہیں۔ میں نہیں جانتی تھی اس مشکل کیفیت سے کیسے بہ حفاظت نکلا جائے، میری ساری توجہ کیمرے کےعدسے پر مرکوز تھی۔ میں نے دوبئی اسٹوڈیو میں نیوز کاسٹر سے رابطہ کیا۔ میں نیوز کاسٹر کی زبان سے یہ سن کرمزید پریشان ہوگئی کہ ’اس کے بعد چلتے ہیں مشی گن‘‘۔

نادیا کا کہنا ہے کہ وہ اپنی پوری ٹیم کے ساتھ مین ہٹن کی سڑکوں پر مٹر گشت کررہے تھے۔ وہ کئی روز سے باضابطہ طور پر کھانا بھی نہیں کھا سکے تھے۔ کسی ہوٹل یا ریستوران میں جانے کا موقع ہی نہیں مل رہا تھا جب کہ بھوک سے سب کا برا حال تھا۔ مین ہٹن کی سڑکوں پر کہیں بھی کوئی ریستوران کھلا نہیں تھا البتہ تھوڑے تھوڑے وقفے سے سینڈوچ فروخت کرنے والوں کے ٹھیلے موجود تھے۔ ہم نے بھی آخر کار ’ہاٹ ڈاگ‘ سینڈ وچ پر ہی گذر اوقات کا فیصلہ کیا۔

مسلسل 20 گھنٹے کی لائیو کوریج

العربیہ کے فوٹو گرافرہ نے کیمروں کی بیٹیریاں مین ہٹن کے ایک ہوٹل پر ری چارج کرنے کے لیے بھیجیں مگر ہمیں اس وقت بہت مایوسی کا سامنا کرنا پڑا جب پتا چلا کہ تمام ہوٹل اور ریستوران بند ہیں۔ سڑکوں پر ٹرمپ کے حامیوں کا سمندر امڈ آیا تھا۔ دن نصف النہار پر تھا اور تھکاوٹ سے چلنا مشکل ہو رہا تھا جب کہ بیٹھنے کے لیے بھی کوئی جگہ نہ تھی۔ اس طرح ہم مسلسل بیس گھنٹے سے کھڑے کھڑے لائیو کوریج کررہے تھے۔

اگلی صبح چار بجے ہم اپنی رہائش گاہوں کو لوٹے مگر تھکاوٹ نے سونے نہ دیا۔ اگلے روز دوبارہ ٹرمپ ٹاور کی طرف لوٹ گئے۔ ٹرمپ ٹاور پہنچتے بارش شروع ہوگئی۔ دوسری طرف صحافیوں اور ٹرمپ کے حامیوں کا غیرمعمولی ھجوم تھا کہ تل دھرنے کو جگہ نہ مل رہی تھی۔ بارش سے بچنے کے لیے چھتریاں خرید کیں۔ ہمیں ٹرمپ دکھائی نہیں دے رہے تھے۔ آخر کار ہم نے لوہے کے جنگلے پر چھلانگ لگائی مگر ایک پولیس اہلکار وہاں بھی آ دھمکا اور کہا کہ آپ نے جنگلہ کیوں پھلانگا۔

نیویارک میں یمنی نژاد پولیس اہلکار

میں نے اسے بتایا کہ میں ایک صحافیہ ہوں اور میرے ساتھ میرا کیمرہ مین ہے۔ اس نے مجھ سےپوچھا کہ آپ کس[ ٹی وی چینل] کے لیے کام کرتی ہیں میں نے تھوڑے سے تردد کے ساتھ ’’العربیہ‘‘ کا نام بتایا۔ وہ مسکرایا اور سوالیہ انداز میں کہا کہ’’العربیہ؟‘‘ میں نے کہا ہاں، میں مزید بھی اسے تفصیل بتانا چاہتی تھی مگر اس نے مجھے سے پہلے ہی خوش آمدید کہا۔

اس نے عربی میں بات کی تو میں حیران رہ گئی۔ میں نے بھی اس کی عربی کے بارے میں پوچھا تو اس نے بتایا کہ میں یمنی نژاد ہوں اور پچھلے دس سال سے نیویارک پولیس میں ہوں۔ پولیس اہلکار نے نہ صرف ہمیں جنگلا پھلانگ کر کوریج کی اجازت دی بلکہ اپنا کارڈ بھی دیا اور کہا نیویارک واپسی پرآپ کو میری جس خدمت کی ضرورت پڑی تو میرے موبائل نمبر پر رابطہ کرنا۔

نیویارک کا یمنی نژاد پولیس اہلکار اب ہمارا دوست تھا۔ اس کی امریکی پولیس میں ملازمت امریکا میں نسلی تنوع کی بہترین مثال ہے۔