.

ٹرمپ کی مطلقہ کا سفیر بنائے جانے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سابقہ اہلیہ ایوانا ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ اس بات کی خواہش مند ہیں کہ انہیں جمہوریہ چیک میں امریکا کا سفیر مقرر کیا جائے جو ایونا کا آبائی وطن بھی ہے۔

امریکی اخبار New York Post سے گفتگو کرتے ہوئے 67 سالہ ایوانا نے بتایا کہ وہ امریکا کے نو منتخب صدر اور اپنے سابق شوہر سے چیک ریاست میں سفیر بنائے جانے کا مطالبہ کریں گی۔

انہوں نے ٹرمپ کے دس سالہ بیٹے بیرن کے ساتھ گہری ہمدردی کا بھی اظہار کیا جو وہائٹ ہاؤس میں اپنی والدہ ، نئی خاتون اول اور ٹرمپ کی تیسری اہلیہ ملانیا کے ساتھ رہیں گے۔ ایوانا نے باور کرایا کہ وہ ملانیا کے نئے مقام سے کسی طور پر حاسد نہیں ہیں۔

"مجھے ٹرمپ کے نام کی ضرورت نہیں"

خود پر بے پناہ اعتماد کی جانب اشارے میں ایوانا کا کہنا تھا کہ " میں صرف امریکا نہیں بلکہ دنیا بھر میں جانی جاتی ہوں۔ میں نے 3 کتابیں تحریر کی ہیں جن کا 40 ملکوں میں 25 زبانوں میں ترجمہ کیا جا چکا ہے۔ میں ایوانا کے نام سے مشہور ہو چکی ہوں اور درحقیقت مجھے ٹرمپ کے نام کی کوئی ضرورت نہیں ہے"۔

ایوانا کی جانب سے تحریر کی جانے والی کتابوں کے نام یہ ہیں :

Free to Love ... For Love Alone ... The Best Is Yet to Come

یاد رہے کہ ٹرمپ سے ایوانا کی تینوں اولادوں کو گزشتہ ہفتے اس عبوری ٹیم میں شامل کر لیا گیا ہے جو ڈونلڈ ٹرمپ کی وہائٹ ہاؤس منتقلی کے عمل کی نگرانی کرے گی۔

ایوانا کا کہنا ہے کہ نیویارک میں ٹرمپ جس پرتعیش زندگی کے عادی ہیں اس کو دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ نو منتخب صدر کا وہائٹ ہاؤس منتقل ہونا نسبتا ایک کم درجے کے مقام کی جانب قدم ہو گا۔

"ٹرمپ کو سفر پسند نہیں"

ایوانا نے گفتگو میں دلچسپ انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ ٹرمپ کو سفر کرنا پسند نہیں ہے۔ سابق اہلیہ نے ٹرمپ کو "انگور کی کشیدہ کی ہوئی فرانسیسی شراب" قرار دیا۔ ایوانا کے خیال میں صدر کی ذمے داریوں کے ساتھ مخصوص سفر کے تقاضوں کے سبب ٹرمپ کو مشکل وقت کا سامنا ہوگا۔ ٹرمپ اپنی انتخابی مہم کے دوران سفر کی کثرت کے سبب پہلے ہی شاکی نظر آتے ہیں۔