.

امریکا کے آئندہ صدر داؤد خان ۔۔ کیا ٹرمپ پاکستان میں پیدا ہوئے ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مغربی دنیا کی متعدد ویب سائٹوں نے امریکا کے آئندہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بنیادوں کو اسلامی ثابت کرنے کے حوالے سے دل چسپ کہانی نشر کی ہے۔

مغربی ویب سائٹوں اور اخبارات کے ہاتھ آنے والی اس دل چسپ کہانی کا منظرنامہ محض ڈرامائی نہیں بلکہ اس کی بنیاد پاکستان کے ایک بڑے نیوز چینل"Neo News" کی رپورٹ ہے جو ٹرمپ کی انتخابی مہم کے دوران نشر کی گئی۔ رپورٹ میں دعوی کیا گیا تھا کہ ٹرمپ امریکا میں پیدا نہیں ہوئے ، اس پر امریکی صدر باراک اوباما نے ٹرمپ کی پیدائش کا سرٹفکیٹ پیش کر دیا۔

پاکستانی نیوز چینل نے رپورٹ میں دعوی کیا کہ ٹرمپ 14 جون 1946 کو شمالی وزیرستان کی وادی شوال میں ایک مسلمان پاکستانی گھرانے میں پیدا ہوئے اور ان کا اصلی نام داؤد ابراہیم خان تھا۔

برطانوی اخبارات ڈیلی میل اور ڈیلی مِرر نے پاکستانی چینل کے حوالے سے اس مضحکہ خیز کہانی کو شائع کیا جو چینل پر اس عنوان سے نشر ہوئی تھی : "یقین کریں یا نہ کریں ، صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ امریکا میں نہیں بلکہ پاکستان میں پید اہوئے"۔

چینل نے ایک بھوری رنگت والے بچے کی تصویر بھی نشر کی جس کے بارے میں دعوی کیا گیا کہ یہ ٹرمپ کے بچپن کی تصویر ہے جو انہوں نے پاکستان میں گزارا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ٹرمپ نے جنوبی وزیرستان کے ایک دینی مدرسے میں تعلیم حاصل کی۔ ان کے والدین 1954 میں ایک حادثے میں ہلاک ہو گئے۔ اس کے بعد برطانوی فوج کے ایک ریٹائرڈ افسر کیپٹن اسٹاک ڈیل 1955 میں ٹرمپ کو لے کر برطانیہ آ گئے۔ یہاں چند برس گزار کر ٹرمپ نیویارک منتقل ہو گئے جہاں ایک امریکی جوڑے فریڈ ٹرمپ اور مریم ٹرمپ نے داود ابراہیم کو سرکاری طور پر گود لے کر اس کا نام ڈونلڈ رکھ دیا۔

بعض امریکی ویب سائٹوں نے پاکستانی چینل پر نشر کی جانے والی ٹرمپ کے بچپن کی حقیقت بیان کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ یہ ایک افغانی بچے کی تصویر ہے جو 2012 سے انٹرنیٹ پر گردش میں ہے۔

بعض دیگر ویب سائٹوں نے مذکورہ کہانی کو غلط ثابت کرنے کے لیے ٹرمپ کے بچپن کی تصاویر نشر کیں جن میں وہ اپنے گھر والوں کے ساتھ نظر آ رہے ہیں۔

واضح رہے کہ امریکی آئین یہ شرط عائد کرتا ہے کہ امریکی صدر بننے والی شخصیت کی پیدائش امریکا میں ہی ہوئی ہو۔