.

یہودی مذہبی ارکان کنیسٹ نے اذان پر پابندی کی مخالفت کیوں کی؟

اپنے مذہب کو درپیش خطرے کے باعث یہودی اذان کی حمایت پر مجبور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی کابینہ کی جانب سے حال ہی میں ایک متنازعہ قانون منظور کیا گیا جس میں مقبوضہ فلسطین کی مساجد میں لاؤڈ اسپیکر پر اذان دینے پر پابندی کی منظوری دی گئی تھی۔ گذشہ روز یہ قانون پارلیمنٹ [کنیسٹ] میں پیش کیا گیا جہاں یہودی مذہبی جماعتوں کے ارکان نے اس کی مخالفت کی۔ مذہبی ارکان کی مخالفت کے بعد متنازع قانون پر رائے شماری ملتوی کردی گئی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق فلسطینی مساجد میں اذان پر پابندی کے قانون کی کابینہ سے منظوری میں بھی یہودی انتہا پسند ہی پیش پیش رہے ہیں کنیسٹ میں انہوں نے اس قانون کی اس وقت مخالفت کی جب انہیں اندازہ ہوا کہ اذان پرپابندی کے بعد ہفتے کے روز ان کے اپنی مذہبی تعلیمات کی ادائی اس قانون کی زد میں آسکتی ہے۔ اگر مساجد میں لاؤڈ اسپیکروں پر اذان پر پابندی لگتی ہے تو ہفتے کے روز یہودیوں کی عبادات بالخصوص معابد میں ’وسل‘ بجانے کی بھی ممانعت ہوسکتی ہے۔ یوں یہودیوں نے اپنی مذہبی عبادت کو بچانے کے لیے اذان پر پابندی کے خلاف رائے دی ہے۔

ادھر سوشل میڈیا پر فلسطینی مساجد میں اذان پر پابندی کے خلاف دھواں دھار مہم جاری ہے جس میں فلسطینی، عرب اور مسلمان ملکوں کے لاکھوں شہری بڑھ چڑھ کر حصہ رہے ہیں۔ مائیکرو بلاکنگ ویب سائیٹ’ٹوئٹر‘ پر یہ مہم ’’ماذن خاموش نہیں ہوں گے# اور ’’ھیش ٹیگ القدس میں اذان پر پابندی‘‘ کے عنوانات غیرمعمولی طور پر پسند کیے گئے ہیں۔

اسرائیل کی مذہبی جماعت ’’یہودت ھتوراۃ‘‘ کے رہ نما اور اسرائیلی وزیرداخلہ یعقوب لیٹسمن نے کھل کر اس قانون کی مخالفت کی۔ انہوں ںے کہا کہ اگر اذان پر پابندی لگتی ہے تو ہفتے کے روز یہودیوں کی مذہبی عبادات بھی متاثر ہوسکتی ہیں۔

عرب ارکان کا دباؤ

اسرائیلی کنیسٹ میں ڈیڑھ درجن کے قریب ارکان پارلیمنٹ عرب کمیونٹی کی نمائندگی کرتے ہیں۔ انہوں نے اسرائیلی پارلیمنٹ کے ارکان پر سخت دباؤ ڈالا جس کے بعد مذہبی یہودی ارکان نے بھی اس قانون کے خلاف رائے دی ہے۔ مذہبی یہودیوں کو خدشہ ہے کہ سیکولر نظریات کے حامل ارکان اذان پرپابندی کے قانون کی آڑ میں یہودیوں کی مذہبی عبادات میں بھی خلل پیدا کرسکتے ہیں۔ یہودی بھی مسلمانوں کی طرح اپنی عبادت گاہوں میں عبادت کے دوران لاؤڈ اسپیکر کا استعمال کرتے ہیں۔ اگر اذان سے لوگوں کے آرام وسکون میں خلل پیدا ہو رہا ہے تو یہودیوں کے وسل اور لاؤڈ اسپیکروں پر دیگر اعلانات بھی لوگوں کے آرام میں مخل ہوسکتے ہیں۔

رائے شماری نہیں ہونے دیں گے

اسرائیلی کنیسٹ کے عرب رکن ڈاکٹر احمد الطیبی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ مساجد میں اذان پر پابندی سے متعلق متنازع قانون پر کنیسٹ میں رائے شماری ہرگز نہیں ہونےدیں گے۔ انہوں نے کہا کہ قانون کی حساسیت کی بناء پر یہودی مذہبی ارکان نے بھی اس پراز سرنوغور شروع کیا ہے مگر اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو ذاتی طور پر اس قانون کو منظور کرانے کے لیے کوشاں ہیں۔ یہ قانون کابینہ میں بھی انہی کی مرضی سے پیش کیا گیا۔ ہم پوری فلسطینی قوم سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اگر اذان پر پابندی کا قانون نافذ ہوجاتا ہے تو وہ اس کی پابندی نہ کریں۔

احمد الطیبی کا کہنا تھا اذان اسلامی تہذیب کی صدیوں پرانی روایت ہے اور فلسطین کا چپہ چپہ اذان کی صداؤں سے گونجتا ہے۔ مگر صہیونی ریاست بیت المقدس، یافا، عکا، حیفا اور الرملہ میں لاؤڈ اسپیکر پر اذان دینے پر پابندی کی سازش کر رہے ہیں۔

مذہبی آزادی پر قدغن

اسرائیلی کنیسٹ کے ایک دوسرے عرب رکن الشیخ طلب ابو عرار نے بھی متنازع قانون پارلیمنٹ میں بحث اور رائے شماری کے لیے پیش کرنے کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے کہا ہم نے اس متنازع قانون کے خلاف پارلیمنٹ میں کھل کر احتجاج کیا ہے۔ مساجد میں لاؤڈ اسپیکر پراذان دینے پرپابندی نسل پرستانہ فیصلہ ہوگی اور اسے مذہبی آزادیوں اور عبادت کے حقوق پر براہ راست حملہ قرار دیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ رکن کنیسٹ احمد الطیبی نے اسرائیلی کنیسٹ کے جاری اجلاس کے دوران اذن دے کر یہ ثابت کیا ہے کہ ہم اذان پرپابندی کا کوئی قانون قبول نہیں کریں گے۔ یہ قانون نیتن یاھو کے اسلام فوبیا کا نتیجہ ہے۔

ادھر دوسری جانب اسرائیل کے انتہا پسند ارکان احمد الطیبی کے جرات مندانہ خیالات کو ٹھنڈے پیٹوں برداشت نہیں کرسکے ہیں۔ اسرائیلی پارلیمنٹ کے رکن روبیرٹ ایلاتوف نے اسرائیلی پراسیکیوٹر جنرل کے ہاں ایک درخواست دی ہے جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ڈاکٹر احمد الطیبی نے اذان کی حمایت کرکے اسرائیلی ریاست کے قوانین سے بغاوت کی ہے۔ لہذا ان کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔