.

سعودی عرب : 16 ارب ریال کے کالے دھن پر 30 مشتبہ افراد گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں ایک فوجداری عدالت میں اس وقت سولہ ارب ریال کے کالے دھن کو سفید کرنے اور منی لانڈرنگ کے سات مقدمات کی سماعت کی جارہی ہے۔

ایک سعودی ذریعے نے بتایا ہے کہ مختلف قومیتوں سے تعلق رکھنے والے تیس مشتبہ افراد کو منی لانڈرنگ کے الزامات میں گرفتار کیا گیا ہے لیکن ان میں سے پندرہ کو مکمل تفتیش کے بعد رہا کردیا گیا ہے۔

عدالت کے مطابق ان میں سے دو ارب ریال کے منی لانڈرنگ کے ایک کیس کی آیندہ ماہ سماعت کی جائے گی۔عدالتی ذریعے کے مطابق آٹھ ارب ریال کے منی لانڈرنگ کے ایک کیس میں نو مشتبہ افراد ملوث ہیں ،ان میں دو کاروباری شخصیات ہیں اور اور سات مقامی بنکوں کے ملازمین ہیں۔

فوجداری عدالت نے اس سے پہلے ایک مقدمے میں ایک مجرم کو قصور وار ثابت ہونے پر چھے سال قید اور تیس لاکھ سعودی ریال جرمانے کی سزا سنائی تھی۔اس کے بنک کھاتے میں غیر قانونی طور پر دو ارب ریال منتقل کیے گئے تھے۔اس نے اس فیصلے کے خلاف اپیل عدالت میں اپیل دائر کردی ہے۔عدالت نے اس شخص کے رہائی کے بعد ملک سے باہر جانے پر بھی پابندی عاید کردی تھی۔

فوجداری عدالت آیندہ ہفتوں کے دوران دو ارب اور سات ارب ریال کے کالے دھن کو سفید کرنے کے دو اور مقدمات کی سماعت کرے گی۔ان مقدموں میں ماخوذ افراد پر مختلف کمپنیوں کے کمرشل کھاتوں کے نام پر جعلی بنک کھاتے رجسٹر کروانے کا الزام ہے اور ان ہی کے ذریعے انھوں نے رقوم کو منتقل کیا تھا۔

وکیل ماجد قروب نے بتایا ہے کہ سعودی عرب سے بیرون ملک بھاری رقوم کی منتقلی منی لانڈرنگ ہی کی ایک شکل ہے۔کاروبار اور کارپوریشنوں کے لیے غیر قانونی طور پر رقوم کا حصول بھی منی لانڈرنگ ہی کی ایک قسم ہے۔

انھوں نے کہا کہ سعودی عرب منی لانڈرنگ کی روک تھام کے لیے مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقا مالیاتی ٹاسک فورس کی سفارشات کی مکمل پاسداری کررہا ہے۔منی لانڈرنگ ایک قابل دست اندازی پولیس جرم ہےاور اس پر کم سے کم دو سال اور زیادہ سے زیادہ پندرہ سال تک قید اور کم سے کم دس لاکھ اور زیادہ سے زیادہ ڈیڑھ کروڑ سعودی ریال جرمانے کی سزا سنائی جاسکتی ہے۔