.

ڈونلڈ ٹرمپ کے بلند آہنگ بیانات نے یہود اور مسلمانوں کو قریب کردیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا میں مقیم یہودیوں نے ری پبلکن پارٹی کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حالیہ انتخابی مہم کے دوران تند وتیز تقریروں کے بعد مسلمانوں کے ساتھ یک جہتی کا اظہار کیا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے انتخابی مہم کے دوران مختلف آئیڈیاز پیش کیے تھے اور امریکی مسلمانوں کو رجسٹر کرنے کی بھی تجویز پیش کی تھی۔اس کا مقصد ان کے بہ قول امریکا کی مسلم کمیونٹی میں موجود ممکنہ دہشت گرد ارکان کا سراغ لگانا اور ان کا خاتمہ کرنا ہے۔

امریکی یہود کے لیے مسلمانوں کی رجسٹریشن کی تجویز ان کے درد آمیز ماضی کی بازیافت ہے جب نازی جرمنی میں ہولوکاسٹ کے دوران یہود کو رجسٹر کیا جاتا تھا اور انھیں تعزیری کیمپوں میں مخصوص سیریل نمبر کے ٹیٹوز جاری کیے جاتے تھے۔

امریکا میں قائم توہین عزت مخالف لیگ کے چیف ایگزیکٹو جوناتھن گرین بلاٹ کا کہنا ہے کہ اگر مسلمانوں کو رجسٹر کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے تو وہ خود کو ایک مسلمان کے طور پر رجسٹر کرائیں گے۔

گرین بلاٹ نے نیویارک میں منعقدہ یہود مخالف کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ '' اگر کسی روز امریکی مسلمانوں کو مجبور کیا گیا کہ وہ اپنی شناخت کو رجسٹر کرائیں تو یہ قابل فخر یہودی خود کو مسلمان کے طور پر رجسٹر کرائے گا''۔

گرین بلاٹ نے فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ''ہم سب کچھ دُہرا سکتے ہیں ،ہماری اس وقت کی درد؛ناک یادیں ہیں جب خود ہماری شناخت کی جاتی تھی،ہمیں رجسٹر کیا جاتا تھا اور نشان زد کیا جاتا تھا''۔

واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی 8 نومبر کو صدارتی انتخاب میں کامیابی کے بعد یہود کی ترقی پسند سماجی انصاف تنظیم ''بینڈ دی آرک'' نے مسلمانوں سمیت اقلیتوں کے تحفظ کے لیے ایک خط پر 44336 افراد نے دستخط کیے ہیں۔ اس کا عنوان ہے:''ہم آپ کے ساتھ ہیں''۔

''لاکھوں تارکین وطن ،مسلمان ،مختلف رنگوں کے عوام ،گَے ،لزبیئن اور ہم جنس پرست لوگ ،خواتین ،معذور افراد اور ہر کوئی جو نومنتخب صدر اور ان کی انتظامیہ سے خطرے میں ہیں ،ہم آپ کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ ہم آپ کے ساتھ ہیں اور آیندہ چار سال کے دوران ہم آپ کے ساتھ ہوں گے''۔ اس نے اپنے بیان میں مزید کہا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے دھمکی آمیز بیانات کے تناظر میں یہود اور مسلمانوں کے تعلقات میں ایک نئی یہ پیش رفت ہوئی ہے کہ امریکی یہود کمیٹی نے گذشہ سوموار کے روز اسلامی سوسائٹی برائے شمالی امریکا کے ساتھ شراکت داری کا اعلان کیا تھا اور ان دونوں تنظیموں نے مشترکہ طور پر مسلم یہود مشاورتی کونسل تشکیل دی ہے۔

اس نئی کونسل نے اپنی ویب سائٹ پر کہا ہے کہ وہ امریکا میں یہود مخالف اور مسلم مخالف تعصب سے نمٹنے کے لیے ایک مربوط حکمت عملی وضع کرے گی اور امریکی جمہوریت کی بہترین روایت کے تحت امریکی معاشرے میں دونوں کمیونٹیوں کی جانب سے اپنے اپنے حصے کے کردار کو اجاگر کریں گی۔

مسلمانوں سے اظہار یک جہتی

ہزاروں امریکیوں نے آن لائن امریکا میں مقیم مسلمانوں کے ساتھ یک جہتی کا اظہار کیا ہے۔جمعہ کے روز تیرہ ہزار سے زیادہ مسلمانوں نے امریکا میں رجسٹر ایک ویب سائٹ پر ایک وعدے پر دستخط کیے ہیں جس میں انھوں نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ اگر مسلمانوں کو امریکا میں رجسٹر کرنے کا موقع آتا ہے تو وہ خود کو مسلمان کے طور پر رجسٹر کرائیں گے۔

انھوں نے ٹویٹر پر اس موعودہ پیغام میں کہا ہے کہ ''اگر ڈونلڈ ٹرمپ مسلمانوں کی حکومت کے ہاں رجسٹریشن کا مطالبہ کرتے ہیں تو میں بھی مسلمان کے طور پر خود کو رجسٹر کراؤں گا''۔

ڈونلڈ ٹرمپ اپنی انتخابی مہم کے دوران امریکا میں مسلمانوں کے داخلے پر پابندی عاید کرنے کا مطالبہ کرتے رہے ہیں اور ان کا کہنا تھا کہ ملک میں مقیم مسلمانوں سے وفاداری کے مختلف ٹیسٹ لیے جائیں گے لیکن ٹرمپ کی مہم نے جمعرات کو ان کے اس وعدے سے انحراف کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''نومنتخب صدر نے کبھی رجسٹری کی وکالت نہیں کی تھی''۔

ٹرمپ کی عبوری ٹیم کے ڈائریکٹر مواصلات جیسن ملر نے جمعے کو ایک ای میل بیان میں کہا ہے کہ ''نومنتخب صدر ٹرمپ نے کبھی ایسی کسی رجسٹری کی وکالت نہیں کی تھی کہ جس سے افراد کا ان کے مذہب کی بنیاد پر سراغ لگایا جاسکے۔یہ مکمل طور پر غلط بات ہے''۔

ٹرمپ کی عبوری ٹیم کے ایک اہم رکن اور ریاست کنساس کے سیکریٹری آف اسٹیٹ کریس کوباش نے رائٹرز کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کو تارکین وطن کے لیے سفارشات مرتب کرنے والے یہ تجویز کریں گے کہ بعض مسلم تارکین وطن کے لیے قومی رجسٹری بحال کردی جائے اور جو ایسے ممالک سے امریکا میں آئیں گے جہاں انتہا پسند تنظیمیں فعال ہیں تو ان کی رجسٹری کی جائے گی۔ یاد رہے کہ امریکا کی وفاقی حکومت پہلے بھی 2002ء سے 2011ء تک اس قانون پر عمل پیرا رہی تھی۔