.

ترکی : نابالغ پر جنسی حملے سے متعلق قانونی بل پر طوفان برپا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ نے حال ہی میں ترکی کی پارلیمنٹ میں پیش کیے جانے والے اس قانونی بل پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے جس کے مطابق بعض صورتوں میں اگر نابالغ لڑکی پر جنسی حملہ کرنے والے شخص نے اُس لڑکی سے شادی کر لی تو مجرم سزا سے بچ جائے گا۔

اس سلسلے میں بچوں کے امور سے متعلق اقوام متحدہ کی ذیلی تنظیم (يونيسيف) کے ترجمان کرسٹوفر پولراک کا کہنا ہے کہ " بچوں کے خلاف تشدد کی یہ نیچ ترین صورتیں ایسے جرائم ہیں جن پر ہر صورت میں سزا دی جانی چاہیے۔ بچوں کی اعلی ترین مصلحت کو دیگر تمام مصلحتوں سے اوپر رکھنا چاہیے"۔

ترکی کی پارلیمنٹ میں جمعرات کے روز قانون کے بل کو ابتدائی طور پر منظور کر لیا گیا ہے اور اب اسے آئندہ چند روز میں پارلیمنٹ میں باقاعدہ رائے شماری کے ذریعے حتمی طور پر منظور ہونے کے واسطے پیش کیا جائے گا۔

اس قانون کے منظور ہونے کی صورت میں تقریبا 3 ہزار افراد پر اس کا اطلاق ہو سکے گا۔ قانون کا متن اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ 11 نومبر 2016 سے قبل تک نابالغ لڑکی پر جنسی حملہ کے ملزمان اگر اپنی زیادتی کا شکار ہونے والوں سے شادی کر لیں تو ان کے خلاف سز معطل ہو سکتی ہے۔ وزیر اعظم بن علی یلدرم نے جمعے کے روز کہا تھا کہ مذکورہ اقدام صرف ایک مرتبہ لاگو ہوگا اور وہ بھی گزشتہ زمانے کے لیے۔

اس قانونی بل سے سامنے آنے والے تنازع کے حوالے سے ترک وزیراعظم نے حکمراں جماعت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بل کے متن کے بارے میں اپوزیشن کے ساتھ مشاورت کرے۔

ترک وزیر انصاف بکیر بوزداگ نے باور کرایا ہے کہ بل کا مقصد "بچوں کو تحفظ" فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ اس کا ممکنہ اطلاق صرف ان جرائم کے واقعات میں کیا جائے گا، جن میں جنسی تعلق کے لیے کوئی تشدد یا طاقت کا استعمال نہ کیا گیا ہو۔

ترکی بالخصوص اس کے مشرقی علاقوں میں مقررہ عمر سے قبل شادی کے اعداد و شمار دستیاب نہیں اور لڑکیوں کو اس حوالے سے شدید دباؤ کا سامنا ہوتا ہے اور وہ اس کو مسترد نہیں کر پاتی ہیں۔

ترکی میں لڑکیوں کے لیے شادی کی کم از کم عمر سترہ برس ہے جب کہ بعض "استثنائی حالات" میں سولہ برس میں شادی کی اجازت دے دی جاتی ہے۔

جولائی میں ترکی کی آئینی عدالت نے فوج داری قانون میں اس شق کی منسوخی کی تائید کی تھی جس میں 15 برس سے کم عمر بچوں کے ساتھ کسی بھی قسم کے جنسی عمل کو "جنسی حملہ" شمار کیا جاتا تھا۔ اس فیصلے کو ترکی میں سماجی حلقوں کی جانب سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔