.

اوباما کے مسترد جنرل جیمز میٹس امریکا کے نئے وزیر دفاع؟

جنرل میٹس ایران کے حوالے سے سخت موقف رکھتے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی اخبارات میں آنے والی خبروں میں بتایا گیا ہے کہ نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ امریکی سینٹرل کمانڈ کے سابق چیف جنرل ریٹائرڈ جیمز میٹس کو نیا وزیر دفاع مقرر کرنے پرغور کررہے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ اور جیمز میٹس کے درمیان ہفتے کی شام ریاست نیو جرسی میں ٹرمپ گالف کلب میں اہم ملاقات بھی ہوئی۔

’سی این این‘ ٹی وی نیٹ ورک کے مطابق جنرل جیمز میٹس کی ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ملاقات اہمیت کی حامل ہے۔ نو منتخب صدر انہیں اپنے حکومت میں وزارت دفاع کا قلم دان بھی سونپ سکتے ہیں۔

جب صحافیوں نے نو منتخب صدر سے پوچھا کہ آیا انہوں نے اپنی حکومت میں جیمز میٹس کو وزیر دفاع کے لیے منتخب کیا ہے تو ان کا کہنا تھا کہ ’اس حوالے سے جو بھی کہا جائے مگر ایک حقیقی ڈیل ایک حقیقی ڈیل ہوگی‘۔

جنرل میٹس کا ایران بارے موقف

امریکی میڈیا میں آنے والی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ سنہ 2010ء سے 2013ء تک امریکی سینٹرل کمانڈ کی قیادت کرنے والے جنرل جیمز میٹس ایران کےحوالے سے سخت موقف رکھتے ہیں۔ انہیں امریکی صدر باراک اوباما نے اس لیے ان کےعہدے سے ہٹا دیا تھا کیونکہ اوباما ایران متنازع جوہری پروگرام پر ایک ٹھوس معاہدہ کرنا چاہتے تھے جب کہ جیمز میٹس کے ایران کے بارے میں خیالات بہت سخت تھے۔

اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق سینٹرل کمانڈ کے سابق سربراہ جنرل جیمز میٹس نے ایران اور اس کی حلیف قوتوں کی دھمکیوں پر ان کے خلاف کارروائی کے حامی تھے اور کئی بار ایران پر پابندیوں کا مطالبہ بھی کرچکے ہیں۔ انہوں نے کئی بار یہ تجویز پیش کی تھی کہ خلیجی پانیوں میں سرگرم پاسداران انقلاب کے اہلکاروں کو خفیہ کارروائیوں میں ہلاک یا گرفتار کرنے کے ساتھ پاسداران انقلاب کی کشتیوں کا تعاقب کیا جائے۔

اخبار وال اسٹریٹ جنرل نے جنرل جیمز میٹس پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھاہے کہ جنرل میٹس نے صراحت کے ساتھ کہا ہے کہ ایران مشرق وسطیٰ میں بہت بڑا سیکیورٹی ریسک ہے تاہم صدر باراک اوبا نے جنرل جیمز کے بیانات کو کبھی اہمیت نہیں دی۔’ سی این این‘ کے مطابق جنرل جیمز میٹس ایران کے متنازع ایٹمی پروگرام پر سمجھوتہ کرنے کےبھی خلاف تھے۔ حتیٰ کہ انہوں نے عراق میں فوجیوں کی تعداد کم کرنے میں بھی صدر سے اختلاف کیا تھا۔ یہی اختلافات ان کے وقت سے پہلے ریٹائرڈ کیے جانے کا موجب بن گئے تھے۔ سنہ 2005ء میں جنرل جیمز میٹس اپنے اس بیان کی وجہ سے بھی کافی مشہور ہوئے تھے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ’مذاق میں بھی افغان طالبان جنگجوؤں پر فائرنگ کی جاسکتی ہے‘۔