.

مستقبل قریب میں شام کے حوالے سے "پر اُمید نہیں" ہوں: اوباما

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر باراک اوباما کا کہنا ہے کہ ایسے وقت میں جب کہ شامی حکومت اور اس کے حلیف روس کی جانب سے حلب میں اپوزیشن کے زیر کنٹرول علاقوں پر شدید بم باری جاری رہے.. وہ مستقبل قریب میں شام کے حوالے سے " پُر امید نہیں" ہیں۔

پیرو کے دارالحکومت لیما میں ایک پریس کانفرنس کے دوران اوباما نے مزید کہا کہ "اب جب کہ روس اور ایران نے وحشیانہ فضائی مہم میں بشار الاسد کی حکومت کو سپورٹ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے ، ہمیں یہ دشوار نظر آرہا ہے کہ اعتدال پسند اپوزیشن زیادہ عرصے تک اپنی پوزیشن برقرار رکھ سکے"۔

اوباما نے لیما میں اپنے روسی ہم منصب کے ساتھ غیر سرکاری ملاقات میں ولادیمر پوتن پر زور دیا کہ وہ شام میں پرتشدد کارروائیوں اور مقامی آبادی کی مشکلات پر روک لگانے کے لیے مزید کوششیں کریں۔ اوباما نے پوتین کو آگاہ کیا کہ اس سلسلے مین " امریکی وزیر خارجہ جان کیری اور ان کے روسی ہم منصب سرگئی لاؤروف کو چاہیے کہ وہ عالمی برادری کے ساتھ فوری مشاورت سر انجام دیں"۔ پیرو میں "ایپک" تنظیم کے سربراہ اجلاس کے ضمن میں ہونے والی یہ غیرسرکاری ملاقات چند منٹوں تک ہی جاری رہی۔

روس اور امریکا کے درمیان تعلقات سرد جنگ کے بعد سے شام اور یوکرین کے تنازعوں کے پس منظر میں غیر مسبوق کشیدگی کا شکار ہیں۔