.

کابل : اہلِ تشیع کی مسجد میں خودکش بم دھماکا ، 27 افراد ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں اہلِ تشیع کی ایک مسجد میں خودکش بم دھماکے میں ستائیس افراد ہلاک اور پینتیس زخمی ہوگئے ہیں۔

کابل کے ایک سینیر پولیس افسر فریدون عبیدی نے بتایا ہے کہ ''حملہ آور بمبار نے مسجد کے اندر عبادت گزاروں کے درمیان خود کو دھماکے سے اڑایا ہے''۔پولیس نے کابل کے مغرب میں واقع مسجد باقرالعلوم میں اس بم دھماکے کے بعد علاقے کا گھیراؤ کر لیا ہے۔

افغان وزارت داخلہ کے ترجمان صدق صدیقی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ بم دھماکا سوموار کی دوپہر ساڑھے بارہ بجے کے قریب ہوا ہے۔ افغان صدر اشرف غنی نے ایک بیان میں اس سفاکانہ حملے کی شدید مذمت کی ہے۔

افغان حکام اور عینی شاہدین کے مطابق مسجد میں شیعہ افراد حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ اور دوسرے شہدائے کربلا کے چہلم کے سلسلے میں جمع ہوئے تھے۔ فوری طور پر کسی گروپ نے اس خودکش بم دھماکے کی ذمے داری قبول نہیں کی ہے۔

گذشتہ ماہ افغانستان کے شمالی علاقے میں عاشورا کے موقع پر اہل تشیع کے ایک اجتماع کو طاقتور بم دھماکے میں نشانہ بنایا گیا تھا۔اس حملے میں چودہ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ قبل ازیں جولائی میں دارالحکومت کابل میں ہزارہ شیعوں کے ایک احتجاجی جلوس میں دو بمباروں نے خود کو دھماکوں سے اڑایا تھا جس سے پچاسی افراد ہلاک اور کم سے کم چار سو زخمی ہوگئے تھے۔ سخت گیر جنگجو گروپ داعش نے اس خودکش بم دھماکے کی ذمے داری قبول کی تھی۔