.

صدر اوباما کی انتظامیہ نے مایوس کیا : ترک صدر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے کہا ہے کہ انھیں صدر براک اوباما کی انتظامیہ سے بہت مایوسی ہوئی ہے کیونکہ وہ مشرقِ وسطیٰ کے مہاجرین کے بحران اور امریکا میں مقیم علامہ فتح اللہ گولن کو بے دخل کرکے ترکی کے حوالے کرنے میں ناکام رہی ہے۔

انھوں نے سی بی ایس کے پروگرام ''60 منٹ'' میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ '' وہ ( اوباما انتظامیہ) ان ایشوز کو سنجیدگی سے لینے میں ناکام رہی ہے۔ ترکی میں اس وقت شام اور دوسرے ممالک سے تعلق رکھنے والے قریباً تیس لاکھ مہاجرین رہ رہے ہیں۔یہ تعداد یورپ جانے والے تمام شامی مہاجرین کی تعداد سے دُگنا ہے''۔

صدر ایردوآن نے اس انٹرویو میں ایک مرتبہ پھر امریکا سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فتح اللہ گولن کو ان کی حکومت کے حوالے کرے۔ علامہ گولن 1999ء سے امریکی ریاست پنسلوینیا میں خود ساختہ جلا وطنی کی زندگی گزار رہے ہیں۔

ترک صدر انھیں جولائی میں اپنی حکومت کے خلاف ناکام فوجی بغاوت کا ذمے دار قرار دیتے ہیں لیکن گولن اس الزام کی تردید کرتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ان کا اس فوجی بغاوت سے کوئی تعلق نہیں تھا۔

اس فوجی بغاوت کے بعد ترک حکومت نے فوج ،پولیس ،عدلیہ اور دوسرے سرکاری محکموں میں تطہیر کا عمل شروع کیا تھا جس کے تحت ہزاروں فوجیوں اور سرکاری افسروں کو فتح اللہ گولن کی خدمت تحریک سے تعلق کے الزام میں برطرف ،معطل یا پابند سلاسل کیا جاچکا ہے۔

صدر ایردوآن کا کہنا ہے کہ تطہیر کا یہ عمل قانونی اور مناسب تھا۔ اب اگر امریکا فتح اللہ گولن کو بے دخل کرنے سے گریزپا رہتا ہے تو ترک عوام یہ سمجھیں گے کہ امریکا کا ناکام فوجی بغاوت میں ہاتھ تھا۔

انھوں نے کہا: '' یہ شخص ایک ایسی دہشت گرد تنظیم کا لیڈر ہے جس نے میری پارلیمان پر بمباری کی تھی''۔انھوں نے بتایا کہ ''ترکی نے ماضی میں مشتبہ دہشت گردوں کو بے دخل کرکے امریکا کے حوالے کیا تھا اور اب وہ اپنے اپنے امریکی اتحادی سے بھی یہی توقع کرتا ہے''۔

انھوں نے امریکی ٹیلی ویژن سے انٹرویو میں ان قیاس آرائیوں کو مسترد کردیا ہے جن میں کہا گیا تھا کہ وہ اپنی حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش کے دوران خوف زدہ ہوگئے تھے۔''اگر آپ لیڈر ہیں تو پھر آپ کو اپنے عوام کا مورال بلند رکھنے کے لیے پیغام دینا ہوتا ہے''۔ ان کا کہنا تھا۔