.

امریکا: مسجد کی تعمیر کی اجازت نہ دینے پر قصبے کے خلاف مقدمہ

ریاست نیو جرسی کے نواحی قصبے کی انتظامیہ پر امتیازی سلوک برتنے کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی حکومت کی جانب سے ریاست نیوجرسی کے ایک قصبے کی انتظامیہ کے خلاف مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھنے مقامی اسلامک سوسائٹی کو مسجد کی تعمیر سے روکنے کے الزام میں عدالت میں دعویٰ دائر کیا ہے۔

نیوجرسی کی نیوآرک فیڈرل کورٹ میں دائر کی درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ برنارڈز قصبے کی پلاننگ کمیٹی کی طرف سے مسجد کی تعمیر کے لیے ایسی ناقابل قبول او بھونڈی شرائط پیش کی ہیں جو کسی بھی صورت میں جمہوری معاشرے کی عکاسی نہیں کریں۔ مسجد تعمیر کرنے کے خواہاں مقامی مسلمانوں کی طرف سے بھی ان شرائط کو مسترد کردیا گیا ہے۔

امریکی وزارت انصاف کی جانب سے دائر کردہ دعویٰ میں کہا گیا ہے کہ نیوجرسی کے قصبے کی مقامی انتظامیہ کی طرف سے کڑی شرائط محض ایک بہانہ ہے۔ دراصل ان شرائط کے پیچھے مسلمانوں کے ساتھ نفرت کا برملا اظہار ہو رہا ہے۔

برنارڈز قصبے کی انتظامیہ کے خلاف اسی طرح کا ایک دعویٰ رواں سال مارچ میں بھی مقامی اسلامک کمیٹی کی طرف سے دائر کیا گیا تھا۔ یہ دعویٰ بھی انتظامیہ کی چار سال سے جاری امتیازی پالیسی کے خلاف دائر کیا گیا تھا جس کی سوسائٹی کی کئی تنظیموں کی طرف سے حمایت کی گئی تھی۔

ریاست نیو جرسی کے مغرب میں واقع 48 کلو میٹر دور قصبے کی انتظامیہ کی طرف سے مقرر کردہ وکیل نے عدالت میں دائر کردہ درخواست پر کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کردیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں عدالت میں وزارت انصاف کی طرف سے دائر کردہ کسی درخواست کا علم نہیں ہے اور نہ ہی بلدیہ کی انتظامیہ نے اس پر تبصرے کو کہا ہے۔

خیال رہے کہ امریکا میں مسلمانوں کے ساتھ نفرت، نسلی اور مذہبی تعصب کوئی نئی بات نہیں۔ امریکا میں مقیم لاکھوں مسلمان کئی سال سے امتیازی سلوک کی شکایات کر رہے ہیں۔