.

ترکی سے متعلق یورپی پارلیمنٹ کی ووٹنگ کوئی اہمیت نہیں رکھتی : ایردوآن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن کا کہنا ہے کہ یورپی یونین میں ترکی کی رکنیت کے متعلق مذاکرات روکنے کے حوالے سے یورپی پارلیمنٹ میں ہونے والی رائے شماری کی "اُن کی نظر میں کوئی حیثیت نہیں ہے"۔ ایردوآن نے ایک مرتبہ پھر یورپ پر الزام عائد کیا کہ وہ دہشت گرد تنظیموں کے شانہ بشانہ کھڑا ہے۔

استنبول میں بدھ کے روز اسلامی تعاون تنظیم کانفرنس سے خطاب کے دوران ترکی کے صدر نے کہا کہ "ہم بارہا یہ واضح کر چکے ہیں کہ ہم یورپی یونین کے بہت سے رکن ممالک سے زیادہ یورپی اقدار کا خیال کرتے ہیں تاہم ہمیں مغربی دوستوں کی جانب سے نمایاں سپورٹ نظر نہیں آئی اور اس حوالے سے نہ ہی کوئی وعدہ پورا کیا گیا"۔

ایردوآن نے واضح کیا کہ " جمعرات کے روز یورپی پارلیمنٹ کے اجلاس میں ترکی کے ساتھ یورپی یونین کی بات چیت کے حوالے سے رائے شماری ہو گی، نتیجے سے قطع نظر ہماری نظر میں اس ووٹنگ کی کوئی حیثیت نہیں"۔

منگل کے روز یورپی یونین کے بڑے اراکین نے مطالبہ کیا تھا کہ ناکام انقلاب کی کوشش کے بعد ترکی کی جانب سے شروع کی جانے والی مہم کے سبب اس کے ساتھ رکنیت سے متعلق بات چیت روک دی جائے۔

ایردوآن متعدد بار یورپ پر کردستان لیبر پارٹی کے ارکان کو پناہ دینے کا الزام عائد کرچکے ہیں۔ ترکی کے خلاف تین عشروں سے بغاوت میں مصروف اس پارٹی کو انقرہ ، یورپی یونین اور امریکا کی جانب سے دہشت گرد تنظیم قرار دیا جا چکا ہے۔

رواں سال مارچ میں برسلز میں یورپی یونین کے سربراہ اجلاس کے مقام کے نزیک کردستان لیبر پارٹی سے ہمدردی رکھنے والوں نے احتجاج کیا تھا۔ ایردوآن ابھی تک ان احتجاج کرنے والوں کی موجودگی پر شدید غصہ محسوس کرتے ہیں۔ اُس موقع پر ایردوآن کا کہنا تھا کہ یہ ان افراد کی موجودگی سے واضح ہو گیا کہ یورپی یونین دُہرا معیار رکھتی ہے۔