.

قصہ شاہ عبدالعزیز کی ہدایت پر لکھی گئی کتاب کا!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے محقق اور مورخ ڈاکٹر محمد آل زلفہ نے سنہ 1925ء اور 1933ء کے دوران یمن اور سعودیہ کےدرمیان ہونے والی ایک جنگ کے احوال سے متعلق کتاب کو دوبارہ ترتیب دینے کے بعد شائع کیا ہے۔ ’سعودی عرب گرین بک‘ کےعنوان سے یہ کتاب 1933ء کےعرصے میں تالیف کی گئی تھی۔ تاہم طویل عرصے تک اس کی نقول غائب رہیں۔ آل زلفہ نے بڑی چھان پھٹک کے بعد اس کتاب سے متعلق کچھ تصویری دستاویزات حاصل کیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق یہ کتاب مملکت سعودی عرب کے بانی شاہ عبدالعزیز آل سعود کی ہدایت پر تالیف کی گئی تھی جس میں سنہ 1925ء سے 1933ء تک سعودی عرب اور یمن کے درمیان جاری رہنے والی ایک جنگ میں شاہ عبدا العزیز کا اصولی موقف بیان کیا گیا ہے۔ اس کتاب میں سنہ 1925ء کے بعد اس وقت کے یمنی فرمانروا امام یحییٰ حمید الدین اور مملکت سعودی عرب کے بانی اور پہلے فرمانروا شاہ عبدالعزیز کے درمیان ہونے والی مراسلت کی تفصیلات بیان کی گئی تھیں۔

اس کتاب کی تالیف کا مقصد یہ تھا کہ سعودی عرب نے یمن کے ساتھ سرحدی تنازعات کے پرامن تصفیے کے لیے ہر ممکن کوشش کی مگر سعودی عرب کی امن پسندی اورجذبہ خیر سگالی کا الٹا جواب دیا گیا۔ جس کےبعد سعودی عرب کو اپنے ساحلی علاقے نجران کی یمن سے واپسی کے لیے جنگ لڑنا پڑی تھی۔

مصنف نے اس جنگ کا احوال بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ یمنی فوج نے سعودی عرب کے ساحلی شہر نجران پر قبضہ کرلیا۔ پہلے تو دونوں ملکوں نے اس مسئلے کو پرامن اور سفارتی کوششوں سے حل کرنے کی پوری کوشش کی۔ دونوں حکومتوں کی طرف سے نجران کے معاملے پر بات چیت کے لیے وفود کی آمدورفت کا سلسلہ جاری رہا مگر جب تمام سفارتی کوششیں ناکام ہوگئی تو آخر کار سعودی عرب کو اپنا علاقہ واپس لینے کے لیے فوجی کارروائی کرنا پڑی تھی۔ سعودی عرب نے جنگ کے ذریعے نجران کو یمن کے قبضے سے چھڑا لیا تھا۔

شاہ عبدالعزیز کی جانب سے یمنی قیادت کے نام تمام مراسلوں، پیغامات اور تنازعات کے پرامن حل کی تمام ساعی کو دستاویزی شکل میں ’’سعودی گرین بک‘‘ میں یکجا کیا گیا۔ بعد ازاں اس کی بڑی تعداد شائع کرنے کےبعد کئی دوسرے عرب ملکوں تک پہنچائی تاکہ عرب برادری کو بھی یہ علم ہو کہ سعودی عرب نے نجران کےتنازع کےپرامن حل کے ہرممکن کوشش کی۔ سعودی عرب ہر قیمت پر پڑوسی مسلمان ملک سے جنگ سے گریز چاہتا تھا۔ مگر سعودی عرب کو جنگ پر مجبور کیا گیا۔ اس جنگ کے ذریعے سعودی عرب نہ تو یمن پر قبضہ کرنا چاہتا ہے اور نہ ہی اپنے اثر ونفوذ کو توسیع دینا چاہتا ہے۔ جنگ اس لیے لڑنا پڑی تاکہ سعودی عرب کی سلامتی اور سالمیت کو لاحق خطرات کا تدارک کیا جاسکے۔

مصنف ڈکٹر آل زلفہ لکھتے ہیں کہ تاریخ خود کو دہرا رہی ہے۔ سنہ 1925ء کی طرح سعودی عرب کی سلامتی کو آج ایک بار پھر یمن کی طرف سے خطرات لاحق ہیں۔ موجودہ جنگ بھی سعودی عرب پر مسلط کی گئی ہے۔ آئے روزیمن سے باغی جنوبی اور ساحلی شہروں نجران، جازان اور دیگر مقامات پر حملے کرتے ہیں۔ ان حملوں میں دسیوں عام شہری اور سیکیورٹی اہلکار شہید ہوچکے ہیں۔