.

ایران کی ''گم شدہ'' جوہری ڈیوائس کے منفی اثرات پر خلیجی ممالک مشوش

جی سی سی نے ممکنہ تابکاری اثرات سے نمٹنے کے لیے آئی اے ای اے کی امداد طلب کر لی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

خلیجی عرب ممالک ویانا میں قائم جوہری توانائی کے عالمی ادارے (آئی اے ای اے ) سے ایران کی ایک گم شدہ جوہری ڈیوائس کی تلاش اور اس کے ممکنہ منفی اثرات سے نمٹنے کے سلسلے میں رابطے میں ہیں۔ ایک خلیجی عہدے دار کے مطابق وہ یہ جاننے میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں کہ اس کے خطے میں پانی کو آلودہ کرنے میں کیا اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

خلیج تعاون کونسل ( جی سی سی) کے ہنگامی انتظامی مرکز کے چئیرمین ڈاکٹر عدنان التمیمی نے ریڈیو ایکٹو ڈیوائس (تابکاری آلہ) کے گم ہونے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔یہ ڈیوائس صنعتی مقاصد کے لیے استعمال کی جارہی تھی۔

اطلاعات کے مطابق جس کار میں یہ ڈیوائس رکھی ہوئی تھی،وہ چوری ہوگئی تھی لیکن بعد میں یہ کار مل گئی تھی لیکن اس میں سے ڈیوائس غائب تھی اور اس کو ممکنہ طور پر کسی نے چُرا لیا تھا۔

عدنان التمیمی نے لندن سے شائع ہونے والے اخبار الشرق الاوسط کو بتایا ہے کہ ریڈیو ایکٹو ڈیوائس کو 74 روز قبل غیر فعال کردیا گیا تھا اور اس وقت سے یہ اپنی نصف افادیت کھو بیٹھی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ان کی تشویش کی بڑی وجہ ایران کے بوشہر میں واقع جوہری ری ایکٹر میں سکیورٹی کی سطح اور تحفظ کا کم تر معیار ہے۔نیز ایران کے جوہری پروگرام میں مجموعی طور شفافیت کا بھی فقدان پایا جاتا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ اگر اس ڈیوائس سے فضا یا پانی میں تابکاری خارج ہوتی ہے تو تمام خلیجی ممالک کو پیشگی انتباہ جاری کیے جائیں گے اور آیندہ سال آئی اے ای اے کے تعاون سے تابکاری مواد کے اخراج کے نتیجے میں زخمی افراد کے علاج کے لیے خصوصی تربیت کا اہتمام کیا جائے گا۔