.

بین الاقوامی سمندر میں جارحیت سے ایران کیا چاہتا ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مغربی میڈیا نے بین الاقوامی سمندر میں ایران کی سرگرمیوں میں اضافے اور خطرات میں توسیع پر روشنی ڈالی ہے۔ خلیج عربی اور بحیرہ عرب میں ایرانی پاسداران انقلاب کی کشتیوں اور جہازوں کی امریکی بحری جہازوں اور طیاروں کے ساتھ کشمکش فریقین کے درمیان جھڑپوں اور مقابلے سے خبردار کرتی ہیں۔

اس سلسلے میں برطانوی اخبار " ڈیلی اسٹار" نے خلیج عربی میں امریکی افواج کے خلاف ایرانی دھمکیوں کے حوالے سے رپورٹ شائع کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق " ایران اس بات پر گھمنڈ کرتا ہے کہ وہ اپنے جرنلوں کے ذریعے علاقے کے پانی میں امریکا کے ساتھ ممکنہ مقابلے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ ایرانیوں کا دعوی ہے کہ ان کے پاس موجود بحری ہتھیار ایٹم بم سے دس گنا زیادہ طاقت ور ہوچکے ہیں"۔

اخبار نے ایرانی مسلح افواج کی اسٹاف کمیٹی کے سربراہ جنرل محمد باقری کے ہفتے کے روز جاری بیان کی جانب اشارہ کیا ہے جس میں باقری کا کہنا تھا کہ ایران یمن اور شام میں بحری اڈے قائم کرنے جا رہا ہے۔

ایرانی مرشد اعلی علی خامنہ ای نے اتوار 27 نومبر کو ایرانی بحریہ کی اعلی قیادت کے اعزاز میں ایک استقبالیے سے خطاب کرتے ہوئے مطالبہ کیا تھا کہ بین الاقوامی سمندر میں ایرانی موجودگی کو مضبوط کیا جائے کیوں کہ اس سے ملک کی صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔

خامنہ ای کا کہنا تھا کہ " ہمارا ملک ایک طویل سمندری حدود اور بحری جہاز رانی کی قدیم تاریخ رکھتا ہے۔ لہذا ایران کی بحری قوت اسلامی نظام اور اس ملک کے شایان شان ہونا چاہیے"۔

ایرانی بحریہ کے کمانڈر ایڈمرل حبیب اللہ سیاری نے 21 نومبر کو اپنے ایک بیان میں واضح کیا تھا کہ " ایران بحیرہ عرب پر پھیلے مکران کے علاقے کے ساحلوں پر دو سمندری زون اور 3 نئے بحری اڈے بنانا چاہتا ہے"۔

ایرانی اشتعال انگیزیوں کا تسلسل

بین الاقوامی سمندر میں مغرب اور عرب علاقے کے ممالک کے خلاف ایران کی اشتعال انگیز کارروائیاں جاری ہیں۔ ہفتے کے روز آبنائے ہرمز میں ایرانی پاسداران کے زیر انتظام ایک بحری جہاز نے اپنے ہتھیاروں کا رخ امریکی بحریہ کے ایک ہیلی کاپٹر کی جانب کر لیا تھا۔ امریکی ذمے داران نے اس اقدام کو "غیر محفوظ اور پیشہ وارانہ رجحان سے خالی قرار دیا تھا جس کے نتیجے میں جارحیت بڑھ سکتی تھی"۔

پاسداران انقلاب کی بحریہ نے گزشتہ ماہ بھی اسی سے ملتی جلتی کارروائیاں کی تھیں۔

اس کے علاوہ ایرانی عسکری کشتیاں وقتا فوقتا خلیج عربی کے بین الاقوامی سمندر میں امریکی بحری جہازوں کے نزدیک میزائل فائر کرنے کی مشقیں کرتی رہتی ہیں۔ 24 اگست کو پاسداران انقلاب کی بحریہ کے زیر انتظام تیز رفتار کشتیاں معاندانہ صورت میں امریکی بحری جہازوں سے آگے نکل گئیں۔ 25 اگست کو ایک دوسرے واقعے میں امریکی گشتی بحری جہاز ایرانی کشتیوں کو خود سے دور کرنے کے واسطے انتباہی فائرنگ کرنے پر مجبور ہو گیا۔

امریکی وزارت خارجہ کی ترجمان الیزبتھ ٹروڈو نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران کا یہ برتاؤ ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ " اس طرح کی کارروائیاں تشویش کا باعث ہیں اور یہ بلا وجہ کشیدگی میں اضافہ کرتی ہیں"

پاسداران انقلاب اور سخت گیروں کی جانب سے جارحیت

امریکی ادارے The Washington Institute for Near East Studies کی ایک رپورٹ کے مطابق "پاسداران انقلاب خطے میں عسکری جارحیت میں اضافہ مرشد اعلی علی خامنہ کے سخت گیر پیروکاروں کے تعاون سے کر رہے ہیں۔ اگرچہ مغرب اور امریکا کے ساتھ ایران کے نیوکلیئر معاہدے نے سفارتی سطح پر ایک تنگ سی کھڑکی کھول دی ہے تاہم ایرانی سخت گیروں کی جانب سے اس بات کو دہرایا جا رہا ہے کہ امریکا ہی ان کے ملک کا سب سے بڑا دشمن ہے"۔

واشنگٹن انسٹی ٹیوٹ کے نزدیک یہ ذہنیت پاسداران انقلاب کی جانب سے حالیہ اشتعال انگیزیوں کو جواز پیش کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایرانی سخت گیروں کو امریکا کے ساتھ پھر سے مقابلے کی اس لیے بھی ضرورت ہے تاکہ سالانہ بجٹ میں مختص کی جانے والی خطیر رقوم کا جواز پیش کیا جاسکے جن کو عسکری ، انٹیلی جنس اور سکیورٹی تقاضوں کے تحت حاصل کیا جاتا ہے۔

خامنہ ای کے اعلان کے بعد جارحیت

ایرانی بحریہ نے خطے میں امریکی افواج کے خلاف اپنی اشتعال انگیز کارروائیوں میں رواں سال مئی میں علی خامنہ ای کے اس اعلان کے بعد اضافہ کر دیا جس میں ایرانی مرشد نے کہا تھا کہ " امریکی افواج پر لازم ہے کہ وہ خنزیروں کے خلیج کی جانب کوچ کر جائیں"۔

مبصرین کے مطابق امریکی اور برطانوی افواج کے کوچ کے مطالبے کے ذریعے ایران بین الاقوامی جہاز رانی کی گزرگاہوں پر کنٹرول حاصل کرنا چاہتا ہے تاکہ وہ خطے میں اپنے حلیفوں کو اسلحے کی ترسیل جاری رکھ سکے۔ ان حلیفوں میں یمن میں حوثی ملیشیائیں اور شام میں بشار الاسد کی حکومت اور لبنان میں حزب اللہ کی ملیشیا شامل ہے۔

ادھر خطے میں امریکی بحریہ کے پانچویں بیڑے کے کمانڈر نے ایران کے ساتھ جھڑپیں واقع ہونے سے خبردار کیا۔ امریکی کمانڈر کے مطابق "ایران اپنی چھوٹی تیز رفتار جنگی کشتیوں بکثرت ہمارے بڑے جنگی جہازوں کی جانب بھیج رہا ہے۔ یقینا ان کشتیوں کو بآسانی غرق کیا جاسکتا ہے تاہم لازمی طور پر یہ ہماری فائرنگ کی صلاحیتوں کے معاملے سے دور درحقیقت ہمارے لیے خطرے کا باعث ہے"۔