.

حوثی باغیوں‌ کو ایرانی اسلحہ کی سپلائی بند کرائی جائے: یمن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کی حکومت نے ایران کی طرف سے حوثی باغیوں کو اسلحہ کی سپلائی بند کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔ یمنی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قبضہ کرنے والے حوثی باغی ایران کے سہارے جنگ لڑ رہے ہیں۔

العربیہ ٹی وی چینل کی ایک رپورٹ میں عالمی برادری سے پرزور مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ ایران پر سخت دبائو ڈالے تاکہ تہران، یمن کے حوثی باغیوں کو اسلحہ کی سپلائی روکے اور ینمی قوم کو اذیتیں دینے سے باز آئے۔

بیان میں تنازعات میں اسلحہ کی کردار پر نظر رکھنے والے ادارے "کار" کی جانب سے جاری کردہ اس رپورٹ کا بھی حوالہ دیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ایران بحیرہ عرب کو یمن کے حوثی باغیوں‌ کو اسلحہ کی سپلائی کے لیے بحری روٹ کے طور پر استعمال کرتا ہے۔ ایران سے کشتیوں کی مدد سے اسلحہ صومالیہ بھیجا جاتا ہے جہاں سے اسے یمن پہنچایا جاتا ہے۔

یمنی وزارت خٰارجہ کا کہنا ہے کہ باغیوں کو اسلحہ کی فراہمی کا غیر قانونی سلسلہ جاری رکھ کر ایران عالمی قرار دادوں کی خلاف ورزی کا مرتکب ہو رہا ہے۔ یمنی باغیوں کی ہٹ دھرمی، عالمی قراردادوں‌ بالخصوص سلامتی کونسل کی قرارداد 2216 پر عمل درآمد سے انکار نے یمنی قوم کو سنگین مشکلات اور پریشانیوں‌ سے دوچار کیا ہے۔

بیان میں‌ "کار فائونڈیشن" کی طرف سے جاری کردہ رپورٹ کا بھی حوالہ دیا گیا ہے جس میں‌ کہا گیا ہے کہ ایران، صومالیہ کے راستے یمنی باغیوں کو اسلحہ اور عسکری سامان پہنچا رہا ہے۔ یہ رپورٹ منگل کے روز سامنے آئی تھی جس میں دعویٰ‌ کیا گیا تھا کہ ایران بحیرہ عرب کے راستے اسلحہ اور دیگر سامان افریقی ممالک تک پہنچاتا ہے جہاں سے وہ سامان دوسری کشتیوں پر لاد کر یمن بھیجا جاتا ہے۔

"کار فائونڈیشن" کا صدر دفتر برطانیہ کے شہر لندن میں ہے۔ یہ ادارہ یورپی یونین کی براہ راست مالی معاونت سے کام کرتا ہے۔ حال ہی میں اس تنظیم نے ایک تصویری رپورٹ جاری کی ہے جس میں دعویٰ‌ کیا گیا ہے کہ ایران، افریقی ملکوں‌ کے راستے یمنی باغیوں‌ کو اسلحہ سپلائی کر رہا ہے۔