.

لیبیا میں غیرملکی فوجی مداخلت کا معاملہ زیرغور نہیں: جان کیری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے واضح کیا ہے کہ لیبیا میں کوئی غیرملکی فوجی مداخلت نہیں ہوگی۔انھوں نے جنگ زدہ ملک میں جاری بحران کے سفارتی حل کی ضرورت پر زوردیا ہے۔

انھوں نے یہ بات روم میں اطالوی ہم منصب پاؤلو جینٹلونی کے ساتھ مشترکہ نیوز کانفرنس میں کہی ہے۔انھوں نے کہا کہ ''سفارت کاری ہمارے آلے ہیں ۔ہم دوسرے آپشنز پر غور نہیں کررہے ہیں اور میرا نہیں خیال کہ کوئی ملک (لیبیا میں) فوجی کارروائی کی تیاری کررہا ہے''۔

انھوں نے اطالوی وزیر خارجہ جینٹلونی کی اس بات سے اتفاق نہیں کیا کہ لیبیا میں بحران کے حل کے لیے مذاکرات ابھی نیتجہ خیز ثابت نہیں ہوئے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ حالیہ سفارتی کوششوں میں پیش رفت ہوئی ہے۔

جان کیری نے بتایا کہ ''گذشتہ ماہ کے دوران جنرل خلیفہ حفتر کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے سفارتی کوششوں میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے اور اختلافات کے خاتمے کے لیے سلسلہ وار اجلاس منعقد کیے گئے ہیں''۔

وہ لیبیا کے مشرقی شہر بن غازی پر قابض فورسز کے کمانڈر کا حوالہ دے رہے تھے جو دارالحکومت طرابلس میں اقوام متحدہ کی ثالثی کے نتیجے میں قائم ہونے والی وزیراعظم فائزالسراج کی سربراہی میں حکومت کو تسلیم کرنے سے انکار کرچکے ہیں اور وہ مشرقی لیبیا میں قائم متوازی حکومت کی حمایت کررہے ہیں۔

درایں اثناء دارالحکومت طرابلس میں متحارب جنگجو گروپوں کے درمیان جمعرات سے نئی لڑائی چھڑ گئی ہے اور دو روز میں ان کے درمیان جھڑپوں میں آٹھ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔اس دوران شہری اپنے گھروں سے باہر نہیں نکلے ہیں۔اس وقت شہر پر مختلف سیاسی اور مذہبی دھڑوں سے تعلق رکھنے والی ملیشیاؤں کے اتحاد کا کنٹرول ہے مگر ان کے درمیان آئے دن جھڑپیں ہوتی رہتی ہیں۔

واضح رہے کہ لیبیا میں 2011ء میں سابق مطلق العنان صدر معمر قذافی کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے طوائف الملوکی کا دور دورہ ہے اور اس وقت ملک میں دو متوازی حکومتیں قائم ہیں اور ان کے تحت ملیشیاؤں کے درمیان مختلف شہروں میں لڑائی جاری ہے۔ان میں باہمی آویزش سے فائدہ اٹھا کر داعش نے لیبیا میں دراندازی کرتے ہوئے وسطی شہر سرت اور بعض دوسرے علاقوں پر قبضہ کر لیا تھا لیکن لیبی فورسز نے انھیں حالیہ مہینوں کے دوران پسپا کردیا ہے۔