.

موصل : داعش کا القادسیہ میں شہریوں پر ٹینکر بم حملہ ،24 ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے شمالی شہر موصل کے مشرق میں واقع علاقے القادسیہ میں داعش کے ایک ٹینکر بم حملے میں ہفتے کے روز چوبیس شہری ہلاک ہوگئے ہیں۔ العربیہ کے ذرائع کے مطابق داعش نے ایک ٹینکر میں بم نصب کیا تھا۔

میڈیا ذرائع کے مطابق داعش کے ایک خودکش بمبار نے بارود سے بھرے ٹینکر کو دھماکے سے اڑایا ہے جس کے نتیجے میں دسیوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔ان میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔

سکیورٹی ذرائع کے مطابق القادسیہ میں داعش شہریوں کو عراق کی انسداد دہشت گردی فورسز کے ساتھ تعاون کی وجہ سے نشانہ بنا رہے ہیں۔ القادسیہ کے علاقے کو حال ہی میں عراقی فورسز نے لڑائی کے بعد داعش سے آزاد کرایا ہے۔عراقی فورسز اور ان کی اتحادی ایران کی تربیت یافتہ شیعہ ملیشیائیں گذشتہ ڈیڑھ ایک ماہ سے موصل میں داعش کے خلاف فیصلہ کن جنگ لڑرہی ہیں۔

حال ہی میں عراقی پارلیمان نے شیعہ اور بعض سُنی ملیشیاؤں پر مشتمل الحشد الشعبی کو سرکاری فوج میں ضم کرنے کی منظوری دی ہے جس پر بعض عراقی اپنے خدشات کا اظہار کررہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ داعش سے گلو خلاصی کے بعد موصل کے شہری ان شیعہ ملیشیاؤں کے ہتھے چڑھ سکتے ہیں اور ان کے مظالم کا شکار ہوسکتے ہیں۔

عراقی وزیر اعظم حیدر العبادی نے جمعے کو ایک بیان میں دعویٰ کیا تھا کہ داعش کے خلاف فیصلہ کن جنگ جلد ختم ہونے والی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ عراقی فوج موصل کی بحالی کے لیے تمام محاذوں کی جانب سے پیش قدمی کررہی ہے۔

عراقی حکومت اور کرد فورسز نے موصل شہر کا شمال ،مشرق اور جنوب کی جانب سے محاصرہ کررکھا ہے جبکہ ایران کی حمایت یافتہ شیعہ ملیشیاؤں پر مشتمل الحشد الشعبی مغرب کی جانب سے شہر کو بند کرنے کی کوشش کررہی ہیں۔گذشتہ ہفتے الحشد الشعبی نے شام سے موصل کی جانب آنے والی شاہراہ کو منقطع کردیا تھا۔یہ داعش کے لیے سامان رسد پہنچانے کی واحد گذرگاہ تھی۔اب شہر میں سامان رسد پہنچانے کے تمام راستے منقطع یا مسدود ہو چکے ہیں۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ موصل کے محاصرے کے بعد غریب خاندان خاص طور پر سخت مشکلات سے دوچار ہوگئے ہیں اور کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کی وجہ سے ان کا جینا دوبھر ہوچکا ہے۔