.

چین میں عدلیہ نے کیسے انصاف کا خون کیا؟ جانئے

پھانسی پانے والے 'مجرم' کو 21 سال بعد عدالت نے بے قصور قرار دیدیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

چین کی سپریم کورٹ نے خاتون کی عصمت ریزی کے بعد قتل کے ایک پرانے کیس میں اپنے غلط فیصلے کا اعتراف کرتے ہوئے ایک شخص کو دی گئی سزائے موت کے اکیس سال بعد ملزم کو بے قصور قرار دیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ‌ کے مطابق بیجنگ کی عدالت نے "نی شوبین" نامی ایک شخص کی پھانسی کی سزا پرعمل درآمد کے اکیس سال بعد اس کیس پر دوبارہ فیصلہ صادر کیا ہے۔ عدالت کا کہنا ہے کہ اس نے ایک دوسرے شخص کے اعترافات کے بعد فیصلہ تبدیل کیا ہے۔

اس سے قبل نی شوبین کو سنہ 1995ٕء میں ایک خاتون کی عصمت ریزی کے بعد اسے قتل کرکے لاش کھیت میں‌ پھینکنے کے الزام میں پھانسی دے دی گئی تھی۔ ملزم کو سزائے موت دیے جانے کے کچھ عرصہ بعد کیس کی دوبارہ سماعت شروع ہوئی تھی۔

عدالت نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ کے اپنے صفحے پر پوسٹ کردہ بیان میں‌ کہا ہے کہ سپریم پیپلز کورٹ نے نی شوبین کے کیس کا دوبارہ جائزہ لیا جس میں کئی شبہات موجود ہیں۔ ملزم کو دی گئی سزا کے لیے ٹھوس ثبوت موجود نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عدالت سزا پانے کے بعد ملزم کو بے قصور قرار دیتی ہے۔

خیال رہے کہ چین میں‌ سزائوں‌ کی شرح 99 اعشایہ 92 فیصد ہے جب کہ دبائو کے ذریعے اعتراف جرم کے نتیجے میں قانونی کارروائیوں کے دوران غلطیوں کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔