.

ٹرمپ "نظام کی تبدیلی "کو متحرک کر سکتے ہیں : سابق ایرانی مذاکرات کار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

نیوکلیئر بات چیت میں سابق ایرانی مذاکرات کار اور ایرانی قومی سلامتی کی سپریم کونسل کے سابق معاون حسين موسويان کا کہنا ہے کہ نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اقتدار سنبھالنے کے ساتھ ہی خطرات میں اضافہ ہوسکتا ہے اور ایران میں "نظام کی تبدیلی کا منصوبہ" ایک بار پھر سے متحرک ہوجائے گا۔

ایران میں اصلاحی پسندوں کے اخبار "شرق" کے ساتھ ایک انٹرویو میں موسویان نے باور کرایا کہ سیاسی ، خارجہ ، سکیورٹی اور عسکری امور میں ٹرمپ انتظامیہ کی ٹیم کے لیے مجوزہ تمام نام ایرانی نظام اور نیوکلیئر معاہدے کی مخالف شخصیات کے ہیں جو اسلامی جمہوریہ کے سقوط کو یقینی بنانے کی خواہش مند ہیں۔

موسویان نے اس امر کی تصدیق کی کہ " کانگریس میں ریپبلکنز کی اکثریت ایرانی نظام کے ساتھ معاملہ کرنے میں اوباما کی پالیسیوں کی مخالف ہے۔ یہ اکثریت ٹرمپ کے دور میں موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایران پر کاری ضربیں لگا سکتی ہے"۔

موسویان نے اپنے ملک کے نظام پر زور دیا کہ ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ دانش مندی سے معاملہ کیا جائے تاکہ نیوکلیئر معاہدے سے حاصل ہونے والے فوائد برقرار رہ سکیں۔ انہوں نے ایرانی ذمے داروں کو نصیحت کی کہ وہ ٹرمپ کو اشتعال دلانے سے اجتناب کریں۔

ایرانی صدر حسن روحانے کی حکومت کے زیر انتظام اخبار "ايران" میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں حسین موسویان نے کہا کہ بلا جواز معاندانہ بیانات نہ داغے جائیں جن سے ٹرمپ کو ایران کے خلاف متحرک ہونے کا بہانہ مل جائے۔

ایرانی جواب

دوسری جانب ایران نے واشنگٹن کی جانب سے تہران کے خلاف پابندیوں کی مزید دس برس توسیع کے فیصلے کا جواب دینے کے لیے کئی داخلی اقدامات کیے ہیں۔ ایرانی پارلیمنٹ نے امریکا کے خلاف فوری طور پر تین قوانین کے بل تیار کر لیے ہیں۔

ایرانی پارلیمنٹ کی پریذیڈنسی کے رکن اکبر رنجبر زادہ نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ "اہم ترین قانون جو پارلیمنٹ میں اتوار کے روز زیر غور آئے گا وہ امریکی اشیاء صرف کی خریداری ممنوع قرار دینے کا ہے"۔

اسی سیاق میں ایرانی مرشد علی خامنہ ای کے اعلی عسکری مشیر بریگیڈیئر جنرل حسین فیروز آبادی نے امریکی سینیٹ کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ " نیوکلیئر معاہدے کی خلاف ورزی کی بھاری عسکری قیمت ہو گی"۔

ایرانی مسلح افواج کی اسٹاف کمیٹی کے سابق سربراہ نے باور کرایا کہ " ان کے ملک پر پابندیوں میں توسیع نیوکلیئر معاہدے کی واضح خلاف ورزی ہے جس کی امریکا کو مخلتف سطحوں پر بھاری قیمت چکانا پڑے گی"۔