.

ڈنمارک : داعش کے خلاف جنگ سے طیارے واپس بلانے کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ڈنمارک نے جمعے کے روز اعلان کیا ہے کہ وہ شام اور عراق میں داعش تنظیم کے خلاف امریکا کے زیر قیادت بین الاقوامی اتحاد میں اپنے طیاروں کے مشن کو جاری نہیں رکھے گا۔ ڈنمارک کے ایف-16 ماڈل کے 7 طیارے گزشتہ 6 ماہ تک بین داعش کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کے لیے بین الاقوامی اتحاد کی کارروائیوں میں شریک رہے۔

ڈنمارک کا یہ فیصلہ امریکی وزارت دفاع کی جانب سے کیے جانے والے اُس اعلان کے 3 روز بعد سامنے آیا ہے جس میں بتایا گیا تھا کہ رواں سال اگست میں رابطوں میں خلل ، انٹیلی جنس معلومات کی کمی اور انسانی غلطیوں کے نتیجے میں امریکی ، آسٹریلوی ، برطانوی اور ڈینش طیاروں کے فضائی حملوں میں شدت پسندوں کے بجائے شام کی سرکاری فوج کے 90 اہل کار مارے گئے تھے۔

ڈنمارک کے وزیر خارجہ اینڈریوس سیملسن نے پارلیمنٹ میں خارجہ پالیسی کی کمیٹی سے ملاقات کے بعد صحافیوں کو بتایا کہ " ہم نے مقررہ پروگرام کے مطابق ڈنمارک کے جنگی طیاروں کو واپس بلانے کا فیصلہ کیا ہے۔ مشن میں توسیع کرنے کے بدلے ہم 20 یا 21 اضافی فوجیوں کو بھیج دیں گے"۔

ڈنمارک کے وزیر دفاع کلاؤس ہیزورٹ کے مطابق نئے فوجی اہل کار آپریشن میں انجینئرنگ اور تعمیراتی مہارت میں اضافہ کریں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ " ہماری فورس عراقی افواج کو تربیت دے گی اور بارودی سرنگوں کے ناکارہ بنانے کی کارروائیوں میں شرکت کے علاوہ دیگر امور سر انجام دے گی"۔

رواں برس کی دوسری شش ماہی میں ڈنمارک نے بین الاقوامی اتحاد کو ایف-16 ماڈل کے 7 لڑاکا طیارے اور ایک سی-130 جی ٹرانسپورٹ طیارہ فراہم کیا تھا۔ ان کے علاوہ 400 فوجیوں پر مشتمل فورس بھی تھی جن میں 60 فوجیوں کا تعلق اسپیشل فورسز سے تھا۔ حکومتی اعلان کے مطابق ٹرانسپورٹ طیارے کو بھی واپس بلا لیا جائے گا۔

ڈنمارک کے ایف-16 طیاروں نے عراق میں اکتوبر 2014 سے اکتوبر 2015 کے دوران کارروائیوں میں حصہ لیا۔ رواں برس اپریل میں ڈنمارک کے پارلیمنٹ نے شام میں داعش تنظیم کے خلاف جنگ میں شرکت کا دائرہ وسیع کرنے کے حوالے سے ووٹ دیا تھا۔