.

ایران کا امریکی پابندیوں کی تجدید پر سخت ردعمل کا عندیہ

صدر براک اوباما سے ایران پر پابندیوں کی تجدید کی توثیق نہ کرنے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی صدر حسن روحانی نے اپنے امریکی ہم منصب براک اوباما سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کانگریس میں حال ہی میں ایران کے خلاف منظور کردہ پابندیوں میں توسیع کو مسترد کردیں اور اس قانون کی توثیق نہ کریں۔ان کا کہنا ہے کہ اگر یہ پابندیاں عاید کی جاتی ہیں تو پھر ایران ان کا سخت جواب دے گا۔

ایرانی صدر نے اتوار کے روز پارلیمان میں ایک تقریر میں امریکی کانگریس میں ایران پر پابندیوں کے ایکٹ (آئی ایس اے) کی مزید دس سال کے لیے توسیع کی منظوری کی مذمت کی ہے اور اس اقدام کو ایران اور چھے بڑی طاقتوں کے درمیان گذشتہ سال جولائی میں طے شدہ جوہری معاہدے کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

حسن روحانی نے براہ راست نشری تقریر میں کہا کہ ''امریکا کے صدر اس قانون کی منظوری اور خاص طور پر اس کے نفاذ کو روکنے کے لیے اپنے اختیارات کو بروئے کار لانے کے مجاز ہیں لیکن اگر یہ ایک بڑی خلاف ورزی کی جاتی ہے تو ہم اس کا سخت جواب دیں گے''۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے جمعے کو ایک بیان میں کہا تھا کہ صدر اوباما اس قانون سازی کو قانون بنانے کے لیے دست خط کردیں گے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایران پر پابندیوں کے قانون کی تجدید جوہری معاہدے کی خلاف ورزی نہیں ہے۔ امریکی کانگریس کے ارکان کی رائے ہے کہ اس قانون میں توسیع کے بعد اگر ایران جوہری معاہدے کی خلاف ورزی کا مرتکب ہوتا ہے تو اس پر فوری طور پر نئی پابندیوں کا نفاذ کیا جاسکے گا۔

درایں اثناء ایران کی سرکاری خبررساں ایجنسی ایرنا کے مطابق پارلیمان کے 290 اراکین میں سے 264 نے ایک مشترکہ بیان جاری کیا ہے اور اس میں صدر حسن روحانی کی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ یورینیم کی افزودگی سمیت جوہری پروگرام کی بحالی کے لیے جوابی اقدامات کرے۔

ایک اور خبررساں ایجنسی فارس نے ہفتے کے روز یہ اطلاع دی تھی کہ پارلیمان کے ارکان ایک بل کا مسودہ تیار کرکے جلد ایوان میں پیش کرنا چاہتے ہیں جس کے تحت امریکا کی جانب سے ایران پر عاید پابندیوں میں توسیع کے ردعمل میں تمام منجمد جوہری سرگرمیاں بحال کردی جائیں گی۔

امریکی سینیٹ نے گذشتہ جمعرات کو ایران پر 1979ء سے عاید پابندیوں میں مزید دس سال کے لیے توسیع کی منظوری دی تھی۔قبل ازیں امریکی ایوان نمائندگان نے 15 نومبر کو کثرت رائے سے ایران کے خلاف عاید ان پابندیوں کی تجدید کی منظوری دی تھی۔امریکا کے اس فیصلے کے بعد سے ایرانی لیڈر سخت ردعمل کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ امریکا کا فیصلہ گذشتہ سال طے شدہ جوہری معاہدے کی صریح خلاف ورزی ہے۔اس کے تحت ایران نے اپنی جوہری سرگرمیاں منجمد کردی تھیں اور اس کے جواب میں اس پر عاید بیشتر عالمی پابندیاں ختم کردی گئی تھیں۔

واضح رہے کہ امریکا نے دہشت گردی کی حمایت ،بیلسٹک میزائلوں کی تیاری اور ان کے تجربات کو جواز بنا کر ایران پر یہ پابندیاں عاید کی تھیں۔ کانگریس میں بالادستی کے حامل ری پبلکنز ارکان کا کہنا ہے کہ نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف سخت ردعمل جاری رکھیں گے اور وہ ایران کے ساتھ جوہری معاہدے میں بھی ترمیم کرسکتے ہیں تاکہ اس کو خطے کے دوسرے ممالک میں مداخلت کی پالیسی سے باز رکھا جاسکے۔

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے گذشتہ ماہ ایک بیان میں کہا تھا کہ ''پابندیوں کے خاتمے کے لیے مذاکرات کے باوجود امریکی کانگریس نے ان میں توسیع کا راستہ اختیار کیا ہے اور یہ کوئی نئی پابندیاں نہیں ہیں بلکہ سابقہ پابندیوں ہی کی تجدید کی گئی ہے''۔

ایران کے سخت گیر حلقے اعتدال پسند صدر حسن روحانی کو مغرب کے ساتھ جوہری معاہدے طے کرنے پر تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اس معاہدے اور اس کے نتیجے میں جنوری میں ایران پر عاید بعض پابندیوں کے خاتمے کے باوجود عام ایرانیوں کی زندگیوں میں کوئی جوہری تبدیلی رونما نہیں ہوئی ہے اور وہ بدستور معاشی مشکلات سے دوچار ہیں۔