.

حلب کی فتح سے شام کی جنگ ختم نہیں ہوگی: یورپی یونین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یورپی یونین نے کہا ہے کہ شامی اپوزیشن کے زیرکنٹرول شمالی شہر حلب پر بشارالاسد کی فوج کے دوبارہ قبضے سے شام کا بحران ختم نہیں ہو گا اور نہ ہی سقوط حلب سے جنگ ختم ہو سکتی ہے۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی سے متعلق امور کی سبراہ فیڈریکا موگرینی نے اٹلی کے دارالحکومت روم میں شام سے متعلق ایک کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ حلب کے اپوزیشن کے زیرکنٹرول علاقوں پر بشارالاسد کی فوج کے دوبارہ قبضے سے شام کی جنگ کے خاتمے کے کوئی امکانات نہیں ہیں۔

اس کانفرنس میں شام کے لیے اقوام متحدہ کے مندوب اسٹیفن دی میستورا بھی موجود تھے۔ مسز موگرینی نے کہا کہ ’ میں یقین کے ساتھ یہ کہتی ہوں کہ سقوط حلب سے شام کی جنگ ختم نہیں ہو گی‘۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے مندوب دی میستورا نے کہا کہ ’ میں جہاں ایک طرف اس بات سے پرامید ہوں کہ فریقین بات چیت کے ذریعے حلب کا تنازع حل کرسکتے ہیں وہیں یہ بھی کہتا ہوں کہ اسدی فوج حلب کو باغیوں سے چھڑانے کے لیے طاقت کا بے پناہ استعمال کر رہی ہے۔

روم کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حلب زیادہ عرصے تک صبر نہیں کر سکتا۔ حلب میں جاری خانہ جنگی اور کشت وخون زیادہ دیر تک نہیں چل سکتے۔

دی میستورا کا کہنا تھا کہ مجھے لگتا ہے کہ حلب کا خوفناک معرکہ سال نو کی تقریبات کے قریب یا رواں سال کے آخر میں ختم ہوسکتا ہے۔ مجھے توقع ہے کہ یہ معرکہ زیادہ طول نہیں پکڑے گا اور اس کا کوئی پرامن حل نکال لیا جائے گا۔

خیال رہے کہ گذشتہ جمعہ کو شامی فوج نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے شمال مشرقی حلب کی الباب کالونی اور کئی دوسرے مقامات پر قبضہ کرلیا تھا۔ انسانی حقوق کی صورت حال پر نظر رکھنے والے ادارے’آبزرویٹری‘ کے مطابق 15 نومبر کے بعد سے شامی فوج اور اس کی حامی ملیشیاؤں کے خوفناک حملوں کے نتیجے میں مشرقی حلب کا 60 فی صد علاقہ اسدی فوج کے کنٹرول میں آ چکا ہے۔