.

شمالی قفقاز میں داعش کے سربراہ کی ہلاکت کی تصدیق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روس کی وفاقی سکیورٹی فورسز نے اتوار کے روز ایک اعلان میں بتایا ہے کہ شمالی قفقاز میں داعش تنظیم کے سربراہ رستم اسیلدیروف کو ہلاک کردیا گیا ہے۔ جمہوریہ داغستان میں اس کارروائی میں داعش کے اس جنگجو کے چار ساتھی بھی مارے گئے۔

واضح رہے کہ رستم 2013 میں روس کے جنوبی شہر وولگو گراد میں ہونے والے دھماکوں میں ملوث تھا جن میں 34 افرد ہلاک ہو گئے تھے۔ اُس وقت وہ قفقاز کے ایک دوسرے باغی گروپ کی صفوں میں شامل ہو کر لڑ رہا تھا۔

سکیورٹی فورسز کے مطابق رستم کا 2012 میں داغستان میں ہونے والے دو بم حملوں سے بھی تعلق تھا۔ ان میں 14 افراد ہلاک اور 120 زخمی ہو گئے تھے۔

رستم نے 2010 میں سال نو کی رات ماسکو میں ریڈ اسکوائر پر دو خاتون خودکش بم باروں کے ساتھ حملے کی تیاری بھی کی تھی جس کو ناکام بنا دیا گیا تھا۔دسمبر 2014 میں رستم نے داعش تنظیم کے سربراہ ابوبکر البغدادی کی بیعت کی تھی۔

جون 2015 میں رستیم اسیلدیروف کو جو الشيخ ابو محمد القدری کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، داغستان میں اعلان کردہ "امارت" کا قائد مقرر کیا گیا۔ اس کے بعد سے تنظیم نے داغستان میں پولیس پر متعدد حملوں کی ذمے داری قبول کی تھی۔

2015 میں امریکی وزارت خارجہ نے رستم کو "غیرملکی دہشت گرد جنگجو" قرار دے کر اس پر پابندیاں عاید کر دیں۔اکتوبر میں روس نے رستم کے مقام کے بارے میں معلومات فراہم کرنے والے کے لیے 50 لاکھ روبل (78 ہزار ڈالر) کے انعام کا اعلان کیا۔

روس کے وفاقی سکیورٹی ادارے نے اپنے بیان میں بتایا ہے کہ وزارت داخلہ کے ساتھ مشترکہ آپریشن میں محج قلعہ نامی شہر میں ایک گھر میں روپوش رستم اور اس کے ساتھی جنگجوؤں کا محاصرہ کر لیا گیا۔ اس جگہ سے بڑی تعداد میں اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کرلیا گیا ہے۔