.

ایران کی طرف سے جنگجو اور اسلحہ شام بھیجے جانے میں اضافہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کی جانب سے جنگجوؤں اور جدید اسلحے کو شام بھیجے جانے کی کارروائیوں میں اضافہ ہو گیا ہے۔ جنگجوؤں اور اسلحے کو تجارتی طیاروں کے ذریعے شام میں موجود ایرانی پاسداران انقلاب ، باسیج اور اسپیشل فورسز دستوں کے لیے بطور کمک بھیجا جا رہا ہے جو بشار حکومت اور شام میں اس کے زیر انتظام شیعہ ملیشیاؤں کی معاونت میں مددگار ثابت ہوگی۔ واضح رہے کہ یہ سرگرمیاں ایرانی نظام پر امریکی پابندیوں میں دس برس کی توسیع کیے جانے اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی جانب سے شام میں ایرانی مداخلت کی مذمت کی قرارداد جاری ہونے کے باوجود جاری ہیں۔

ایران کی فارسی زبان کی ویب سائٹ"war reports" کے مطابق پاسداران انقلاب نے حالیہ عرصے میں عراقی ملیشیاؤں کے ہزاروں جنگجوؤں کو اہواز کے جنوب میں عبادان کے ہوائی اڈے کے راستے شام بھیجا۔

عراق سے تعلق رکھنے والے ان اجرتی جنگجوؤں کو حلب شہر کے محاصرے کو برقرار رکھنے کے لیے بھیجا جا رہا ہے۔ انہیں ایرانی فضائی کمپنی" ماہان" کے ذریعے دمشق پہنچایا جاتا ہے اور پھر انہیں حلب اور شام میں لڑائی کے دیگر علاقوں میں تقسیم کر دیا جاتا ہے۔

امریکی وزارت خزانہ نے 2011 میں اسلحہ اور فوجی سامان پاسداران انقلاب کے زیر انتظام دہشت گرد تنظیم "قدس فورس" کو پہنچانے کی وجہ سے "ماہان" فضائی کمپنی پر پابندی عائد کردی تھی۔

مذکورہ ویب سائت "وار رپورٹس" نے عراقی جنگجوؤں کی اور ان کے ایران سے شام منتقل کیے جانے کی تصاویر جاری کی ہیں جہاں پہنچ کر وہ بشار الاسد کی فوج کے شانہ بشانہ لڑتے ہیں۔ ان میں اکثریت کا تعلق " امام علی بریگیڈ" سے ہے جو عراق میں پاپولر موبیلائزیشن میں شامل ایک گروپ ہے۔

ایرانی تجارتی طیاروں کی جانب سے شام میں دہشت گردی کی سپورٹ میں شرکت ایسے وقت میں جاری ہے جب کہ امریکی صدر باراک اوباما کی انتظامیہ ایران کو "ایئربس" اور "بوئنگ" کمپنی کے شہری طیاروں کی محض تجارتی مقاصد کے لیے فروخت کی منظوری دے چکی ہے۔

امریکی کانگریس کے بہت سے ارکان کے نزدیک یہ امر بڑی حد تک خود نیوکلیئر معاہدے کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ارکان کی جانب سے تہران پر مزید پابندیاں عائد کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے اس لیے کہ ایران مشرق وسطی میں بدستور دہشت گردی کو سپورٹ کر رہا ہے۔

یہ پیش رفت 15 نومبر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی جانب سے جاری اُس قرارداد کے فورا بعد سامنے آئی ہے جس میں شام میں بشار حکومت کی دہشت گردی کو سپورٹ کرنے کے لیے ایرانی مداخلتوں کی بھرپور مذمت کی گئی۔