.

برطانیہ:ڈرائیوروں کی ’اکڑ‘ نکالنے کے لیے عمرقید کی سزا تجویز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانوی حکومت نے ڈرائیوروں کی اکڑ نکالنے اور مسلسل ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں کے مرتکب افراد کے لیے عمر قید کی سزا پرغور شروع کردیا ہے۔ برطانوی حکومت کے مطابق ڈرائیوروں کو قانون کا پابند بنانے کےلیے اس کے سوا اور کوئی چارہ ہی نہیں کیونکہ ڈرائیور طبقے کی بے پروائی اور غفلت سے ہرسال دسیوں معصوم شہری جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔

برطانوی نشریاتی ادارے’’بی بی سی‘ کی ویب سائیٹ پر پوسٹ ایک خبر میں بتایا گیا ہے کہ حکومت نے تیز رفتار ڈرائیونگ پر روک لگانے اور پبلک شاہراہوں پر گاڑیاں چلانے کی مقابلے بازی روکنے کے لیے نئی اور ماضی کی نسبت زیادہ سخت سزاؤں پر غور شروع کیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ گاڑی چلاتے ہوئے موبائل فون استعمال کرنے، شراب پی کر گاڑی چلانے اور نشے کی حالت میں ڈرائیونگ پر کڑی سزائیں دینے کی ضرورت ہے تاکہ ٹریفک حادثات کو کم سےکم اور جانی نقصان سے بچا جاسکے۔

خیال رہے کہ سنہ 2015ء میں منظور کردہ سزاؤں میں ڈرائیوروں کی بے پروائی سے شہریوں کی ہلاکتوں پر صرف چار سال قید کی سزا منظور کی گئی تھی۔

برطانوی کابینہ میں جلد ایک نیا بل پیش کیا جائے گا جس میں ڈرائیونگ کے قانون کی خلاف ورزی کے مرتکب کو کم سے کم 14 سال قید اور زیادہ سے زیادہ عمر قید کی سزا پر غور کیا جائے گا۔

برطانوی وزیر انصاف سام جیاما کا کہنا ہے کہ ڈرائیوروں کی غفلت سے کسی انسان کی جان چلے جانا معمولی بات نہیں۔ انسانی جان کا کوئی نعم البدل نہیں ہے اور نہ ہی اس کے ہرجانے کا حق ادا کیا جاسکتا ہے۔ اس لیے حکومت ٹریفک قوانین کے جرائم میں ملوث افراد کو ان کے جرم کی حیثیت کے مطابق زیادہ سے زیادہ سزائیں دینے پر غور کررہی ہے۔

برطانوی حکومت ٹریفک قوانین کی پامالی کی روک تھام کے لیے ایک نیا بل لانے کا اعلان کرکے بے پروائی سے گاڑی چلانے والے منچلوں کو یہ پیغام دینا چاہتی ہے کہ وہ باز آجائیں کیونکہ ان کی مجرمانہ غفلت کے نتیجے میں لا تعداد خاندانوں کو مصائب کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

برطانوی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ ڈرائیوروں کے گاڑی چلاتے ہوئے موبائل فون کے استعمال کی وجہ سے بھی حادثات میں اضافہ ہوا ہے۔آئے دن شہری ایسے ڈرائیوروں کی گاڑیوں کے پہیوں تلے کچلے جاتے ہیں مگر بے پروائی کے مرتکب عناصر کو برائے نام بھی سزا نہیں دی جاتی۔ البتہ ڈرائیونگ کے دوران موبائل فون استعمال کرنے والے افراد پر عاید کیے جانے والے جرمانے کی رقم 100 پاؤنڈ سے بڑھا کر 200 پاؤنڈ کردی گئی ہے۔ اس کے علاوہ بلیک پوائنٹ کی تعداد بھی تین سے بڑھا کر چھے کردی گئی ہے۔