.

لیبیا: داعشی خاتون کے خود کش حملے کی ویڈیو

خود کش حملہ شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے دوران کیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کے شہر سرت میں سیکیورٹی فورسزکی جانب سے خواتین اور بچوں کو داعش کے چنگل سے چھڑانے کے لیے کی گئی ایک کارروائی کے دوران ایک خود کش بمبار خاتون نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا جس کے نتیجے میں کئی خواتین اور بچے جاں بحق ہوگئے۔

اس واقعے میں خود کش حملے کی ویڈیو فوٹیج’’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ کو موصل ہوئی ہے جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ایک بوسیدہ مکان میں کچھ خواتین اور بچے داعش کے خوف سے جمع ہیں۔ سرت میں سیکیورٹی فورسز کو ان کے بارے میں علم ہوا تو انہوں نے بچوں اور عورتوں کو ’ریسکیو‘ کرنے کے لیے کارروائی شروع کی تو اس دوران ایک خاتون داعشی دہشت گرد نے ان کے بیچ خود کو دھماکے اڑا دیا جس کے نتیجے میں متعدد افراد ہلاک ہوگئے۔

سرت کے خصوصی ذریعے نے’’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ کو بتایا کہ یہ واقعہ جمعہ کی شام کو پیش آیا۔ کچھ بچے اور عورتیں داعش کی چنگل سے فرار کے بعد الجیزہ کالونی میں ایک کھنڈ نما مکان کے اندر اور ملبے پر کھڑے تھے۔ سیکیورٹی فورسز نے انہیں محفوظ مقام تک پہنچانے کے لیے جیسے ہی کارروائی شروع کی اچانک ایک داعشی خاتون دہشت گرد نے بارود سے کود کو اڑا دایا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ داعش سے فرار ہونے والے بچوں کی تعداد 30 اور خواتین کی چھ تھی۔ کچھ بچوں اور عورتوں کو محفوظ مقام پر منتقل کردیا گیا تھا۔ آخری گروپ کو وہاں سے نکالنے کی کوشش کے دوران داعشی دہشت گرد خاتون نے خود کو دھماکے سے اڑایا جس کے نتیجے میں لیبی فوج کے چار اہلکاروں سمیت متعدد افراد ہلاک ہوگئے جب کہ دو بچوں اور دو خواتین سمیت 11 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

سرت میں الجیزہ کالونی کا بیشتر حصہ داعش سے چھڑالیا گیا ہے۔ اس کالونی میں صرف 20 گھروں پر داعش کا قبضہ ہے۔ آئندہ چند روز میں الجیزہ کالونی میں داعش کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کی توقع ہے۔

کل اتوار کو لیبی حکومت کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا تھا کہ سیکیورٹی فورسز نے کامیاب آپریشن کے دوران متعدد خواتین اور بچوں کو داعش کے چنگل سے چھڑا لیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ فورسز نے داعش کے خود کش حملے سے پہلے ہی خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد کو محفوظ مقامات پر منتقل کردیا تھا۔

لیبیا کی متحدہ حکومت کے بیان کے مطابق داعشی خاتون نے خود کش دھماکہ خواتین اور بچوں سے چند گز دور کیا جس کے نتیجے میں متعدد بچے اور عورتیں زخمی ہوئی ہیں۔ تاہم اس حملے میں کسی سیکیورٹی اہلکار کی ہلاکت کی تصدیق نہیں کی گئی۔ البتہ غیر سرکاری ذرائع کے مطابق خود کش حملے میں چار اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔