.

''ایران کی آبنائے ہُرمز کو بند کرنے کی دھمکی قصۂ ماضی ہوچکی''

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

متحدہ عرب امارات ( یو اے ای) میں شامل امارت فجیرہ کے حکمراں شیخ حمد بن محمد الشرقی نے کہا ہے کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہُرمز کو بند کرنے کی دھمکی اب ماضی کا قصہ بن چکی ہے۔

انھوں نے یہ بات اماراتی خبررساں ایجنسی کو ایک انٹرویو میں کہی ہے۔انھوں نے مزید کہا ہے کہ وہ اس طرح کی دھمکیوں کی کوئی زیادہ پروا نہیں کرتے ہیں۔ان کے اس بیان سے چار روز قبل ایران کے ایک فوج عہدے دار نے کہا تھا کہ ان کے ملک کا آبنائے ہُرمز پر مکمل کنٹرول ہے۔

جب شیخ حمد سے یہ سوال کیا گیا کہ کیا فجیرہ کی بندرگاہ اماراتی اور خلیجی تیل کو با حفاظت برآمد کرنے کے لیے آبنائے ہرمز کا متبادل ہوسکتی ہے؟اس کے جواب میں انھوں نے کہا''یو اے ای ایسا عملی طور پر کرسکتا ہے۔اس نے ابو ظبی میں حبشن فیلڈز سے فجیرہ تک پائپ لائن بچھا دی ہے۔اس لیے وہاں سے براہ راست تیل فجیرہ کی بندرگاہ تک بھیجا جاسکتا ہے اور وہاں سے یہ ٹینکروں کے ذریعے دساور بھیجا جاسکتا ہے۔اس لیے اماراتی تیل کو آبنائے ہرمز سے گذرنے کی ضرورت ہی نہیں ہے''۔

حبشن ،فجیرہ پائپ لائن کا سنہ 2012ء میں افتتاح کیا گیا تھا۔یہ 370 کلومیٹر طویل ہے اور اس کی لاگت کا تخمینہ چار ارب بیس کروڑ ڈالرز لگایا گیا تھا۔اس کے ذریعے پندرہ لاکھ بیرل تیل یومیہ ابوظبی سے فجیرہ منتقل کیا جا سکتا ہے۔اس کی صلاحیت اٹھارہ لاکھ بیرل یومیہ تک بڑھانے کے لیے کوششیں کی جارہی ہیں۔

گذشتہ جمعرات کو ایران کی فارس خبررساں ایجنسی نے ایرانی مسلح افواج کے کمانڈر باقر زادے کا ایک بیان نقل کیا تھا جس میں انھوں نے کہا تھا کہ ''آبنائے ہُرمز اور خلیج ایک تزویراتی علاقہ ہے اور ایران کا اس علاقے پر مکمل کنٹرول ہے''۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ صورت حال کا یہ تقاضا ہے کہ اس کنٹرول کو برقرار رکھا جائے۔

واضح رہے کہ ایران کے فوجی عہدے دار ماضی میں بھی متعدد مرتبہ آبنائے ہُرمز کو بند کرنے کی دھمکی دے چکے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ وہ وہاں سے تیل بردار جہازوں کی آمدورفت کو بھی روک سکتے ہیں۔تینتیس کلومیٹر طویل آبنائے ہُرمز خلیج اومان کو بحیرہ عرب سے ملاتی ہے۔ ایران کے علاوہ متحدہ عرب امارات میں سے صرف فجیرہ خلیج اومان کے ساتھ واقع ہے۔

سعودی عرب اور دوسرے خلیجی ممالک اسی آہم آبی راستے سے اپنا تجارتی مال اور تیل بحری جہازوں کے ذریعے دنیا کے دوسرے ممالک کو بھیجتے ہیں۔امریکا کی توانائی اطلاعات انتظامیہ (ای آئی اے) کے گذشتہ سال کے اعداد وشمار کے مطابق آبنائے ہُرمز سے ایک کروڑ ستر لاکھ بیرل یومیہ تیل بحری جہازوں کے ذریعے گذرتا ہے۔دوسرے الفاظ میں اس آبی راستے سے تیل کی قریباً تیس فی صد تجارت ہوتی ہے۔