.

سلامتی کونسل : روس اور چین نے حلب پر قرارداد ویٹو کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روس اور چین نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں شام کے بارے میں قرارداد کو ویٹو کردیا ہے۔مصر کی جانب پیش کردہ اس قرارداد میں شام کے شمالی شہر حلب میں سات روز کے لیے جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

قرارداد کی عدم منظوری پر اقوام متحدہ میں مصر کے ایلچی عمرو ابوالعطا نے سلامتی کونسل کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔انھوں نے دل گرفتہ انداز میں علاقائی طاقتوں کو براہ راست مخاطب ہوکر کہا:''شام میں آپ کس بنیاد پر لڑرہے ہو جبکہ آپ یہ دیکھ رہے ہو کہ ایک عورت نے اپنے مرتے ہوئے بچے کو اٹھایا ہوا ہے اور شامی اجنبیوں سے مدد کے طلب گار ہیں''۔انھوں نے مزید کہا کہ ''کون سا دین یا فرقہ خونریزی کی اجازت دیتا ہے؟''

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں سنہ 2011ء کے بعد یہ چھٹا موقع ہے کہ روس نے شام کے بارے میں قرارداد کو ویٹو کیا ہے۔چین نے پانچویں مرتبہ شام پر قرارداد کو مسترد کیا ہے۔قرار داد کا مسودہ مصر نے نیوزی لینڈ اور سپین کے ساتھ مل کر تیار کیا تھا۔وینزویلا نے بھی اس کے خلاف ووٹ دیا ہے جبکہ انگولا قرارداد پر رائے شماری کے وقت اجلاس سے غیر حاضر رہا۔سلامتی کونسل کے باقی گیارہ ارکان نے اس کے حق میں ووٹ دیا۔

یہ قرار داد ایسے وقت میں پیش کی گئی تھی جب حلب کے مشرقی حصے میں صدر بشارالاسد کی وفادار فورسز نے مزید پیش قدمی کی ہے اور انھوں نے چڑھائی کرتے ہوئے حلب کے ہوائی اڈے کی جانب جانے والی مرکزی شاہراہ پر بھی قبضہ کر لیا ہے۔ قرارداد میں حلب کے محصور مشرقی حصے میں انسانی امداد مہیا کرنے پر بھی زور دیا گیا تھا۔

درایں اثناء کینیڈا نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا اجلاس طلب کرنے کی درخواست دی ہے تاکہ حلب میں انسانی امداد مہیا کرنے سے متعلق ایک اور قرارداد پر رائے شماری کرائی جاسکے۔تاہم ابھی اجلاس بلانے کی کوئی تاریخ مقرر نہیں کی گئی ہے۔واضح رہے کہ جنرل اسمبلی میں کسی رکن ملک کو کسی بھی قرارداد کو ویٹو کرنے کا اختیار حاصل نہیں ہے۔ البتہ اس فورم پر منظور کردہ قرارداد کی پابندی لازم نہیں ہوتی ہے لیکن اسمبلی سنہ 1950ء کی ایک تصریح کے مطابق قرارداد پر عملی اقدام کے لیے دباؤ ڈال سکتی ہے۔