.

اسرائیل کا یہودی بستیوں کو قانونی بنانے کا بل تباہ کن ہے: امریکا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کے محکمہ خارجہ نے مقبوضہ مغربی کنارے میں یہودی آباد کاروں کے قریبا چار ہزار مکانوں کو قانونی بنانے کے لیے اسرائیلی بل پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور اس قانون سازی کو مکمل طور پر تباہ کن قرار دیا ہے۔

اسرائیلی پارلیمان کے ارکان نے سوموار کی شب اس بل کی ابتدائی منظوری دی تھی جبکہ بین الاقوامی سطح پر اس مجوزہ قانون کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔عالمی برادری کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے غیر قانونی طور پر فلسطینی سرزمین پر قبضہ کررکھا ہے۔

اس بل کے حامیوں میں وہ انتہا پسند اسرائیلی بھی شامل ہیں جو ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے سرے سے مخالف ہیں۔انھوں نے اس پر ابتدائی ووٹنگ پر بے پایاں خوشی کا اظہار کیا ہے اور انھیں امید ہے کہ اس سے مقبوضہ مغربی کنارے کے بیشتر علاقے کو اسرائیلی ریاست میں ضم کرنے کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔

محکمہ خارجہ کے ترجمان مارک ٹونر نے منگل کی شب کہا کہ ''اس قانون کی منظوری تنازعے کے دو ریاستی حل کے امکانات کے لیے مکمل طور پر تباہ کن ثابت ہوگی''۔

انھوں نے کہا کہ ''ہمیں اسرائیل کے بعض سیاست دانوں کے بیانات پر بھی تشویش لاحق ہے جن کا یہ کہنا ہے کہ یہ (قانون) مغربی کنارے کے حصوں کو ضم کرنے کی جانب پہلا قدم ہوگا''۔

اس بل کے قانون بننے سے قبل اس کی پارلیمان میں تین خواندگیوں میں منظوری ضروری ہے۔ آج بدھ کو پارلیمان میں اس پر پہلی رائے شماری متوقع ہے۔

مارک ٹونر کا کہنا تھا کہ'' ہمیں اس بل پر گہری تشویش لاحق ہے۔ہم یہ توقع کرتے ہیں کہ یہ قانون نہیں بنے گا۔ہم یہ بھی توقع کرتے ہیں کہ اس میں تبدیلیاں اور ترامیم کی جا سکتی ہیں''۔