.

کیا ایرانی میزائل ایٹم بم سے زیادہ خطرناک ہیں؟

ایران بیلسٹک میزائلوں کا بھاری ذخیرہ جمع کرنے کے لیے پرعزم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی فضائیہ کے چیف جنرل امیر علی حاجی زادہ نے کہا ہے تہران بیلسٹک میزائلوں کی تعداد میں اضافے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور ملک کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنانے کے لیے بیلسٹک میزائلوں کی تعداد بڑھائی جائے گی۔

دوسری جانب جنگی اور دفاعی امور کے ساتھ ساتھ عالمی قوانین پر نظر رکھنے والے مبصرین کا کہنا ہے کہ ایران کا بیلسٹک میزائلوں کے تجربات جاری رکھنا اور میزائل ٹیکنالوجی کو مزید تقویت دینا عالمی سلامتی کونسل کی قرارداد 2231 کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران بیلسٹک میزائلوں کے تجربات سے امن پسند دنیا کو اپنے جنگی جنون کا پیغام دے رہا ہے۔ ایران کے بیلسٹک میزائل تہران کے منجمد کیے گئے جوہری پروگرام سے زیادہ خطرناک ہیں۔ اگرچہ ایران کا دعویٰ ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے تاہم دنیا جانتی ہے کہ تہران کا مقصد ایٹمی ہتھیار اور ایٹم بم تیار کرنا ہے۔

پاسداران انقلاب کی آٖفیشل ویب سائیٹ Sepah News کے مطابق فضائیہ کے سربراہ جنرل حاجی زادہ نے منگل کے روز جامعہ الامام الحسین میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہدایت پر ایران اپنے میزائل پروگرام کو مزید پیچیدہ بنانے کے لیے کام کررہا ہے۔

ان کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی سلامتی کونسل نے ایران پر بیلسٹک میزائلوں اور جوہری وار ہیڈ لے جانے والے میزائلوں کے تجربات پر پابندی عاید کر رکھی ہے۔ مگر عالمی پابندیوں کے باوجود ایران نے گذشتہ برس نومبر میں شام میں بھی میزائل سازی کا ایک کارخانہ قائم کیا تھا جو اب تک کام کررہا ہے۔ عالمی پابندیوں اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے تہران چار بار جوہری ہتھیار لے جانے والے میزائلوں کے تجربات کرچکا ہے۔

گذشتہ مارچ میں ایران نے 1400 کلو میٹر فاصلے تک مار کرنے والے ایک بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیا۔ اس میزائل پر عبرانی اور فارسی میں ’اسرائیل کو صفحہ ہستی سے مٹانے‘ کا نعرہ درج تھا۔ میزائل تجربات کے موقع پر اعلیٰ فوجی اور سول حکام بھی موجود تھے اور یہ تجربہ بری فوج کے سربراہ جنرل محمد علی جعفری کی زیرنگرانی کیا گیا۔ یہ میزائل تجربہ خطے کے ممالک کی سلامتی کو چیلنج کرنے کا واضح ایرانی پیغام تھا اور اس تجربے کے پس پردہ عرب ممالک کے خلاف ایران کے مذموم عزائم آشکار تھے۔

ایران کے میزائل تجربات پرعالمی برادری کی جانب سے شدید رد عمل سامنے آیا۔ امریکا اور یورپی یونین نے تہران سے بیلسٹک میزائلوں کی تیاری فوری طور پر بند کرنے کا مطالبہ کیا۔ گذشتہ مہینے برسلز میں یورپی یونین کے 28 رکن ممالک کے مشترکہ اجلاس کے دوران بھی ایران کے بیلسٹک میزائلوں کے پے درپے تجربات پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا اور ساتھ ہی ایران کو یہ پیغام دیا گیا کہ اگر وہ یورپ کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتا ہے تو اسے بیلسٹک میزائلوں کے تجربات کا سلسلہ بند کرنا ہوگا۔

امریکی موقف

امریکا میں وزارت دفاع کے سال 2017ء کے بجٹ کے ساتھ مریکی قومی سلامتی کمیٹی کے ڈائریکٹر کی تیار کردہ ایک رپورٹ بھی شامل کی گئی ہے جس میں ایران کے بیلسٹک میزائل تجربات کا تفصیل کے ساتھ تذکرہ موجود ہے۔

ری پبلیکن پارٹی کے سینٹر ٹوم کاٹن کا کہنا ہے کہ کانگریس نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ مل کر ایرانی رجیم پر مزید اقتصادی پابندیاں عاید کرے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکا ایران کے بیلسٹک میزائلوں کو خطے کی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ سمجھتا ہے اور اس خطرے کے انسداد کے لیے خطے اور دنیا بھر کے اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہے۔

’فاکس نیوز‘ کو انٹرویو میں سینٹر کاٹن نے کہا کہ تہران پر نئی پابندیوں کا مقصد ایران کی جانب سے لاحق خطرات کو کم کرنا ہے۔ ہمارے پاس ایران کو نکیل ڈالنے کے لیے کئی آپشن موجود ہیں۔ اگر ایران کی جانب سے جوہری معاہدے کی تھوڑی سی بھی خلاف ورزی کی جاتی ہے تو ایران کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔ ایران کو اپنے بیلسٹک میزایلوں کی تیاری بھی روکنا ہوگی، خطے میں مداخلت کی پالیسی ترک کرنے کے ساتھ دہشت گردی کی پشت پناہی کا سلسلہ بھی روکنا ہوگا۔

ایرانی ساختہ میزائل عسکری گروپوں کے پاس

ایران نہ صرف اپنے طور پر بیلسٹک میزائل تیار کرنے اور ان کا ذخیرہ کرنے کے لیے کوشاں ہے بلکہ ایران کے میزائل تہران نواز عسکری گروپوں تک پہنچ رہے ہیں۔ اس وقت ایران کے تیار کردہ میزائل شامی فوج کے زیراستعمال ہیں۔ لبنانی حزب اللہ اور یمن کے حوثی ملیشیا کو بھی ایران اپنے میزائل فراہم کررہا ہے۔

گذشتہ تین ماہ کے دوران یمن سے سعودی عرب پر ایرانی ساختہ زلزال 3 نامی میزائل حملے کیے جاتےرہے ہیں۔ امریکی سینٹر جون مکین نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ یمن کی خلیج عدن میں کھڑے امریکی بحری بیڑے پر حوثیوں نے حوثیوں نے ایک ماہ قبل ایرانی ساختہ میزائل سے حملہ کیا تھا۔

‘ایس 300‘ روسی میزائل

حال ہی میں روس نے ایران کو ’ایس 300‘ نامی طاقت ور میزائل فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ روسی میزائل ساز کمپنی ’’روسٹیخ‘‘ کے ڈائریکٹر جنرل سیرگی چمیزوف کا کہنا ہے کہ ایران کو ’ایس 300‘ میزائلوں کی فراہمی سنہ 2017ء میں کردی جائے گی۔

ایران ایک ایسے وقت میں میزائلوں کی تیاری اور دوسرے ملکوں سے خریداری کے لیے کوشاں ہے جب امریکا میں ڈونلڈ ٹرمپ کی شکل میں ایک سخت گیر اور ایران مخالف لیڈر صدر منتخب ہوچکا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے اس بات کا اشارہ دیا ہے کہ اگر ایران نے بیلسٹک میزائلوں کے تجربات اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری رکھا تو تہران کو نئی اقتصادی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا سکتا ہے۔