.

نئے صدارتی طیارے کے حوالے سے ٹرمپ کا حیران کن فیصلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز مطالبہ کیا ہے کہ نئے صدارتی طیارے "ایئر فورس وَن" کی تیاری کا معاہدہ منسوخ کیا جائے۔ ٹرمپ کے نزدیک طیارے کی تیاری کے سلسلے میں بڑھتی ہوئی لاگت "حماقت" ہے۔

ٹوئیٹر پر اپنے ایک پیغام میں ٹرمپ کا کہنا ہے کہ "بوئنگ کمپنی مستقبل کے صدور کے واسطے صدارتی طیارہ (ایئر فورس وَن 747) بنا رہی ہے تاہم اس کے اخراجات قابو سے باہر ہو کر

4 ارب ڈالر سے بھی تجاوز کر چکے ہیں.. لہذا اس آرڈر کو منسوخ کیا جائے"۔

مذکورہ طیارے کو بنانے کے لیے بوئنگ کمپنی کا انتخاب جنوری 2015 میں عمل میں آیا تھا۔

صدارتی طیارہ امریکی طاقت کی ایک مضبوط علامت شمار کیا جاتا ہے۔ تاہم 1990 میں خدمات کا آغاز کرنے والا دو منزلہ 747-200 طیارہ پرانا ہو چکا ہے۔

نیویارک میں اپنی کمپنیوں کے صدر دفتر "ٹرمپ ٹاور" میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ کا کہنا تھا کہ " ہم چاہتے ہیں کہ بوئنگ کمپنی بہت منافع کمائے تاہم اس کی ایک حد ہونا چاہیے"۔

بوئنگ کمپنی کی جانب سے ابھی تک کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا ہے۔

2009 میں صدر باراک اوباما نے صدر کی منتقلی میں استعمال ہونے والے ہیلی کاپٹروں "میرین وَن" کی تبدیلی کا منصوبہ روک دیا تھا۔ یہ فیصلہ 28 ہیلی کاپٹروں کی تیاری پر آنے والی لاگت 11.5 ارب ڈالر کے قریب پہنچ جانے کے بعد کیا گیا۔