.

ایران : ایک ہفتے میں 14 ہزار ویب سائٹس اور اکاؤنٹس کی بندش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے پراسیکیوٹر اور انٹرنیٹ سنسرشپ کمیٹی کے صدر احمد علی منتظری نے چودہ ہزار ویب سائٹس اور سماجی روابط کے اکاؤنٹس بند کردیے ہیں۔

احمد علی منتظری نے ایران کے الخبر نیوز چینل کو ایک انٹرویو میں بتایا ہے کہ ان ویب سائٹس اور سماجی روابط کی سائٹس پر صفحات کو مذہب اور اخلاقیات کے خلاف مواد کی وجہ سے بند کیا گیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ''اس وقت ہم غیرملکی چینلوں اور مخالفانہ نیٹ ورکس کے حملوں کی زد میں ہیں اور ہمارے مذہب اور قومی اقدار کو نشانہ بنایا جارہا ہے''۔

تاہم انسانی حقوق کی تنظیمیں اس موقف سے اتفاق نہیں کرتی ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ایرانی حکام اظہار رائے کی آزادی کو دبا رہے ہیں کیونکہ وہ اس بات سے خوف زدہ ہیں کہ شہری سوشل میڈیا کے ذریعے ایران میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے دستاویزی ثبوت دنیا کو دکھا سکتے ہیں۔

ایرانی پراسیکیوٹر کا اںٹرویو میں مزید کہنا تھا کہ صدر حسن روحانی اور وزیر داخلہ رحمانی فاضلی نے ان سے ویب سائٹس کی بندش کے معاملے پر اتفاق کیا تھا اور اس معاملے میں سخت انتباہ جاری کیے گئے تھے۔

واضح رہے کہ ایرانی حکام نے سماجی روابط کے ذرائع کے خلاف ملک بھر میں ایک بڑی مہم برپا کررکھی ہے۔ایرانی سکیورٹی فورسز نے حال ہی میں انسٹا گرام پر آن لائن کیٹ واک کا اہتمام کرنے والے نوجوان مردوں اور خواتین کوگرفتار کرنے کا اعلان کیا تھا اور ان میں سے بعض کو ایک ایرانی عدالت نے ایک سے چھے سال تک قید کی سزا سنائی ہے۔