.

’ایران کی خلیجی ممالک میں مداخلت کی موذی پالیسی باعث تشویش ہے‘

برطانوی وزیراعظم کا ’العربیہ‘ کو خصوصی انٹرویو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانیہ کی خاتون وزیراعظم تھریسا مے نے کہا ہے کہ خلیجی ممالک برطانیہ کے لیے تزویراتی حلیف ہیں۔ برطانیہ کے لیے جتنی اہمیت خلیجی ریاستوں کی ہے ایران کی نہیں۔

تھریسا مے نے ان خیالات کا اظہار ’العربیہ‘ نیوز چینل کے ترکی الدخیل کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو کے دوران کیا۔ ان کا یہ انٹرویو کل بدھ کے روز ٹی وی چینل پر نشر کیا گیا۔ تھریسا مے کا وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالنے کے بعد کسی عرب ٹی وی چینل کو دیا گیا پہلا انٹرویو ہے۔ انہوں نے کہا کہ خلیج کی امن وسلامتی اور ترقی برطانیہ کی سلامتی، ترقی اور خوشحالی کے لیے ضروری ہے۔

بحرین اور دوسرے خلیجی ملکوں میں ایرانی مداخلت سے متعلق سوال کے جواب میں برطانوی وزیراعظم نے کہا کہ ’ہمیں خطے اور خلیجی ملکوں میں ایرانی مداخلت کی موذی سرگرمیوں پر گہری تشویش ہے۔

خلیجی ممالک کے ساتھ سیکیورٹی شعبے سمیت دیگر شعبوں میں تعاون سے متعلق ایک سوال کے جواب میں تھریسا مے کا کہنا تھا کہ خطے کی سلامتی کے لیے خلیجی ملکوں کے ساتھ تعاون کی اہمیت کا پورا یقین ہے۔ برطانیہ کے عرب ممالک کے ساتھ دیرینہ تعلقات برسوں پرانے ہیں۔ سنہ 1971ء میں برطانیہ نے نہر سویز میں اپنا فوجی مرکز قائم کیا۔ میں یہاں بحرین سے پورے اعتماد اور وثوق سے کہتی ہوں کہ یہ اقدام خطے کے بارے میں ہمارے احساسات اور جذبات کا آئینہ دار ہے۔

روشن مستقبل کے لیے تعلقات کا استحکام

تھریسا مے پہلی برطانوی وزیراعظم ہیں جنہیں خلیج تعاون کونسل کے سربراہ اجلاس میں مہمان خصوصی کے طور پر شرکت کی دعوت دی گئی تھی۔ العربیہ کے نامہ نگار ترکی الدخیل سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میرے لیے یہ بات باعث شرف ہے کہ خلیجی قیادت نے مجھے اعلیٰ سطحی اجلاس میں خصوصی مہمان کے طور پر شرکت کا شرف بخشا گیا۔ میں یقین کے ساتھ کہوں گی کہ خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک اور برطانیہ کے درمیان باہمی تعلقات بہتر سے بہتر کی طرف سفر جاری رکھیں گے۔

انہوں نے کہا کہ خلیجی قیادت کے لیے میرا پیغام یہ ہے کہ ’ہمیں مل کر باہمی تعلقات کو باہمی مفادات اور تعمیرو ترقی کے لیے روشن اور مضبوط مستقبل کی خاطرمستحکم کرنا ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ خلیجی ملکوں اور برطانیہ میں ماضی میں بھی خوش تعلقات قائم رہے ہیں مگر ہم مستقبل میں دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم اور مستقبل کے تقاضوں کے مطابق مضبوط بنائیں گے۔

خلیجی ممالک کے لیے اپنے پیغام پر بات کرتے ہوئے تھریسا مے نے کہا کہ ’میں خلیجی ملکوں کی اقوام سے میرا مطالبہ یہ ہے کہ وہ برطانیہ کو قابل اعتماد دوست سمجھیں اور یقین کرلیں کہ مستحکم و ترقی یافتہ مستقبل کے لیے برطانیہ ایک قابل اعتماد دوست ہے‘۔

یورپی یونین سے اخراج اور اس کے اثرات سے متعلق پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں برطانوی وزیراعظم کا کہنا تھاکہ ہم یورپی یونین کے بعد برطانیہ کو خود اعتماد، مثبت سوچ رکھنے والا اور عالمی برادری کے لیے کھلا پن رکھنے والا ملک بنائیں گے۔

العربیہ پر تھریسا مے کا پہلا انٹرویو

’العربیہ‘ نیوز چینل کو برطانوی وزیراعظم تھریسا مے کا انٹرویو نشر کرنےکا اعزاز حاصل ہوا۔ یوں عرب دنیا کے ذرائع ابلاغ میں العربیہ پہلا چینل ہے جس نے تھریسا کا انٹرویو نشر کیا ہے۔ یہ انٹرویو بدھ کی شام سعودی عرب کے مقامی وقت کے مطابق شام سات بجے نشر کیا گیا۔

تھریسا مے نے برطانیہ کی یورپی یونین سے علاحدگی کے فیصلے ڈیوڈ کیمرون کی سبکدوشی کے بعد 11 جولائی 2016ء کو اقتدار سنھبالا۔ برطانیہ کی ’خاتون آہن مارگریٹ تھیچر‘ کے بعد تھریسا مے دوسری خاتون ہیں جو وزارت عظمیٰ کے منصب پر فائز ہوئی ہیں۔

تھریسا مے کو دو روز قبل بحرین کی میزبانی میں منعقدہ خلیج تعاون کونسل کے سربراہ اجلاس کے موقع پر مہمان خصوصی کے طور پر مدعو کیا گیا تھا۔ انہوں نے کونسل کے سربراہ اجلاس سے بھی تفصیلی خطاب کیا۔ برطانیہ کی یورپی یونین سے علاحدگی کے بعد کسی برطانوی وزیراعظم کا خلیج تعاون کونسل کے اجلاس میں شرکت کا یہ پہلا موقع ہے۔