.

شامی فوج نے حلب میں آپریشن روک دیا: روس

امریکا اور روس کے عسکری ماہرین کی کل ہفتے کو جنیوا میں ملاقات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روس کے وزیر خارجہ سیرگی لافروف نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ شامی فوج نے جنگ زدہ شہر حلب میں شہریوں کو محفوظ مقامات تک منتقل ہونے میں مدد دینے کے لیے فوجی کارروائی روک دی ہے۔

روسی وزیرخارجہ نے جرمن شہر ہامبرگ میں یورپی امن وتعاون تنظیم کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’شامی فوج نے مشرقی حلب میں آپریشن روک دیا ہے تاکہ شہریوں کی ایک بڑی تعداد کو محفوظ مقامات تک منتقل ہونے میں مدد مل سکے‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکا اور روس کے عسکری ماہرین کل ہفتے کو جنیوا میں حلب کی صورت حال پر بات چیت کریں گے۔

ادھر وائیٹ ہاؤس کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ہم یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ آیا روس مشرقی حلب میں محصور شہریوں کو محفوظ ٹھکانوں تک پہنچانے کی کوششوں کے ضمن میں اپنے دعوؤں میں کامیاب ہوسکتا ہے یا نہیں‘۔

وائیٹ ہاؤس کے ترجمان جوش ارنسٹ ن کہا کہ ہم پہلے دن سے روس کے بیانات پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں، ہم یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ آیا روس اپنے قول فعل میں سچا ہے یا نہیں۔

واشنگٹن میں صحافیوں سے گفت و گو کرتے ہوئے جوش ارنسٹ کا کہنا تھا کہ بہ ظاہر روس کا حلب میں جنگ بندی سے متعلق بیان مثبت ہے گر دیکھنا یہ ہے کہ آیااس بیان کے میدان جنگ پر عملی اثرات بھی مرتب ہوتے ہیں کہ نہیں۔

قبل ازیں روسی خبر رساں ادارے انٹر فیکس نے نائب وزیرخارجہ شیرگی ریابکوف کا ایک بیان نقل کیا تھا جس میں ان کا کہنا تھا کہ ماسکو اور واشنگٹن حلب میں جنگ بندی کے ایک فارمولے پر متفق ہوگئے ہیں۔

مسٹر ربا کوف کا کہنا تھا کہ حالیہ چند ایام میں امریکا اور روس کے درمیان حلب کی صورت حال پر بات چیت کے لیےدستاویزات کا مسلسل تبادلہ جاری رہا ہے جس کے بعد دونوں ملک ا حلب میں جنگ بندی سےمتعلق ایک فارمولے پر متفق ہوگئے ہیں۔

بدھ کے روز ماسکو کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ امریکا اور روس کے درمیان حلب میں اپوزیشن کے مسلح جنگجوؤں کو محفوظ راستہ دینے کی تجویز تاحال زیرغور ہے۔ جمعرات کو امریکا اور روس کے وزراء خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ بھی ہوا تھا۔ دونوں ملکوں کے وزراء خارجہ نے حلب میں جنگ بندی کی کوششوں کو تیز کرنے پر اتفاق کیا تھا۔