.

امریکا: کیلی فورنیا میں مسجد کے باہر مسلمان پر دھاوا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی ریاست کیلی فورنیا میں ایک مسلمان کو مسجد سے باہر آنے کے دوران زدوکوب کیا گیا جس کے نتیجے میں اسے زخمی حالت میں ہسپتال پہنچانے کی نوبت آ گئی۔ پولیس کے مطابق 29 سالہ حملہ آور جان میٹسن کے خلاف ماضی میں بھی اسی نوعیت کے الزامات کے تحت احکامات جاری ہو چکے ہیں۔

پولیس نے واضح کیا کہ مذکورہ مسلمان کے مسجد سے باہر آنے پر حملہ آور نے پہلے زبانی طور پر اسے ہراساں کیا اور پھر مسجد کے کے قریب ہی گاڑیوں کے پارکنگ ایریریا میں مسلمان کو کو پیٹ ڈالا۔ پولیس نے میٹسن کو نفرت کے جرم کا ارتکاب کرنے کے الزام میں حراست میں لے لیا جب کہ ایک اور شخص کی تلاش جاری ہے جس کے بارے میں شبہ ہے کہ حملے سے اس کا بھا تعلق ہے۔ پولیس نے بتایا کہ حملے کا نشانہ بننے والا شخص جس کو ہسپتال منتقل کیا گیا تھا ، اب اس کی بہتر ہے۔

لاس اینجلس میں Council on American-Islamic Relations (CAIR) کے بیورو کے ڈائریکٹر حسن علوش کے مطابق ایک عینی شاہد نے ان کو اس واقعے کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔ عینی شاہد نے بتایا کہ حملہ آور نشے کی حالت میں تھا اور اس کے ساتھ ایک دوسرا شخص بھی موجود تھا۔

علوش نے بتایا کہ یہ واقعہ کیلی فورنیا میں 5 مساجد کو دھمکی آمیز خطوط ملنے کے بعد پیش آیا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ صدارتی انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ کی جیت کے بعد سے "کیر" تنظیم کو ایسے 150 واقعات کی اطلاعات موصول ہوئیں جن میں مسلمانوں کو ہراساں کیا گیا تھا۔