.

سعودی عرب : مصر ،ترکی اور صومالیہ میں دہشت گردی کی شدید مذمت

دہشت گردی کی لعنت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے مربوط کوششوں کی ضرورت پر زور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی وزارتی کونسل نے مصر ،ترکی اور صومالیہ میں اتوار کے روز تباہ کن خودکش بم دھماکوں کی شدید مذمت کی ہے اور دہشت گردی کی لعنت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے عالمی سطح پر مربوط کوششوں کی ضرورت پر زوردیا ہے۔

سعودی کابینہ کا الریاض میں الیمامہ محل میں شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے زیر صدارت اجلاس ہوا۔ سعودی عرب پریس ایجنسی کے مطابق اطلاعات اور ثقافت کے وزیر عادل الطریفی نے اجلاس کے بعد جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ کابینہ نے دہشت گردی کے حملوں میں جان کی بازی ہارنے والوں کے خاندانوں اور مصر ،ترکی اور صومالیہ کی حکومتوں سے تعزیت کا اظہار کیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ اسلام اور دوسرے مذاہب دہشت گردی کی اس طرح کی کارروائیوں کو مسترد کرتے ہیں اور یہ انسانی اقدار اور اصولوں کے علاوہ بین الاقوامی اقدار اور کنونشنوں کے بھی منافی ہیں۔

کابینہ نے سعودی عرب کے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے چوتھی مرتبہ بطور رکن انتخاب پر خوشی کا اظہار کیا ہے ۔بیان میں کہا گیا ہے کہ ''یہ انتخاب سعودی مملکت کی ملکی اور بین الاقوامی سطح پر انصاف ،مساوات اور انسانی حقوق کے تحفظ اور فروغ کے لیے کوششوں کے اعتراف کا بھی مظہر ہے''۔

عادل الطریفی نے کہا کہ کابینہ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا ہنگامی اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا ہے اور عالمی ادارے سے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ شامی عوام کو اسد حکومت اور اس کے اتحادیوں کی جارحانہ جنگی کارروائیوں سے بچانے کے لیے اپنی ذمے داریاں پوری کرے۔

سعودی کابینہ نے اوپیک اور غیر اوپیک ممالک کی جانب سے تیل کی پیداوار میں کمی کے فیصلے کا خیرمقدم کیا اور اس امید کا اظہار کیا ہے کہ اس سے عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں استحکام لانے میں مدد ملے گی اور اس سے تیل پیدا کرنے والے ممالک اور صارفین دونوں کو فائدہ پہنچے گا۔

انھوں نے مزید بتایا کہ کابینہ نے سعودی وزارت مواصلات اور ٹیکنالوجی اور چین کی ریاستی کمیٹی برائے ترقی اور اصلاحات کے درمیان دوطرفہ تعاون سے متعلق ایک سمجھوتے کی منظوری دے دی ہے۔اس پر گذشتہ سال الریاض میں دونوں ملکوں کے نمائندوں نے دستخط کیے تھے۔اس کے تحت اطلاعات کی ''شاہراہِ ریشم'' کو ترقی دی جائے گی۔

کابینہ نے سعودی عرب اور چین کی اعلیٰ سطح کی ایک مشترکہ کمیٹی کے قیام سے متعلق سمجھوتے کی بھی توثیق کردی ہے۔اس کے علاوہ کابینہ نے بنک آف ٹوکیو مٹسوبشی کو سعودی مملکت میں ایک شاخ کھولنے کی بھی منظوری دی ہے۔