.

سیکڑوں ایرانی جعلی پاسپورٹس پر برطانیہ پہنچ گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

منظم جرائم پیشہ گروہوں نے حال ہی میں سیکڑوں ایرانیوں کو جعلی پاسپورٹس پر برطانیہ پہنچا دیا ہے۔اس بات کا انکشاف یونان کے تفتیش کاروں نے کیا ہے۔

اس خدشے کا اظہار کیا گیا ہے کہ جعل سازی کے ذریعے برطانیہ میں دراندازی میں کامیاب ہونے والے یہ ایرانی دہشت گردی کی کارروائیاں انجام دے سکتے ہیں یا پھر وہ شامی مہاجرین کی جاسوسی کے لیے آرہے ہیں جو شام میں بشارالاسد کی وفادار فوج اور اس کے اتحادیوں کی جبر وتشدد کی کارروائیوں سے جانیں بچا کر یورپ کا رُخ کررہے ہیں۔

برطانوی اخبار دا ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق انسانی اسمگلنگ کے منظم دھندے میں ملوّث گینگ کے افراد برطانیہ میں جعلی پاسپورٹس پر داخلے کے خواہاں ایرانیوں سے ساڑھے بارہ ہزار پاؤنڈز وصول کرتے ہیں اور انھیں غیر قانونی طریقے سے سرحد عبور کراکے برطانوی علاقے میں لے جاتے ہیں۔

اخبار نے لکھا ہے کہ یونانی اور برطانوی حکام نے اس اسمگلنگ گینگ میں شامل تینتیس مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ تحقیقات سے پتا چلا ہے کہ ایرانیوں کو پہلے ان کے ملک سے ترکی پہنچایا جاتا ہے اور پھر وہاں سے یورپ لے جایا جاتا ہے۔ابتدائی طور پر انھیں یونان پہنچایا جاتا ہے اور پھر وہاں سے یورپی علاقے کے ذریعے برطانیہ اسمگل کردیا جاتا ہے۔

یورپی تفتیش کاروں کو یہ بھی پتا چلا ہے کہ انسانی اسمگلنگ کے دھندے میں ملوّث یہ گینگ بڑے اعلیٰ معیار کے جعلی پاسپورٹس تیار کرتا ہے۔ حتیٰ کہ سکیورٹی افسروں کے لیے اصلی اور جعلی پاسپورٹس میں تمیز کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔ان میں سے بعض پاسپورٹس چرا لیے گئے یا گم ہوگئے تھے اور بعد میں انکشاف ہوا کہ اصلی پاسپورٹ تو کسی اور شخص کے زیر استعمال تھا۔

برطانوی اخبار نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ یونان کے دارالحکومت ایتھنز میں چوبیس مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جبکہ باقی مشتبہ افراد کی برطانیہ میں گرفتاری عمل میں آئی ہے۔ان میں سے زیادہ تر کو تین شہروں مانچسٹر ، گلاسگو اور نارتھمپٹن سے گرفتار کیا گیا ہے۔

ان گرفتار مشتبہ افراد کے قبضے سے بڑی تعداد میں جعلی یورپی پاسپورٹس برآمد ہوئے تھے۔اس کے علاوہ ان سے جعل سازی سے تیار کی گئی دستاویزات اور نقد رقوم بھی برآمد ہوئی تھیں۔

یہ پہلا موقع ہے کہ ایرانی شہریوں کی برطانیہ اور یورپ میں اس طرح منظم انداز میں اسمگلنگ کی اطلاع منظرعام پر آئی ہے۔تاہم برطانوی پولیس نے ابھی تک اس حوالے سے کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا ہے۔ فوری طور پر یہ بھی واضح نہیں ہوا ہے کہ آیا ان ایرانیوں کا ان کی حکومت سے بھی کوئی تعلق ہے یا نہیں اور وہ یورپ کس مقصد کے لیے گئے ہیں۔