.

پوپ فرانسس نے اس شامی پناہ گزین کی "قدم بوسی" کی !

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

رواں برس مارچ میں کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ فرانسس نے روم کے قریب مسلمان، ہندو اور عیسائی پناہ گزینوں کے پیر دھوئے تھے اور ان کو چوما بھی تھا۔ یہ رسم اس عمل کی پیروی ہے جس میں مسیحیوں کے عقیدے کے مطابق حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اس دنیا سے رخصت ہونے سے قبل اپنے حواریوں کے پاؤں دھوئے تھے۔

پوپ فرانسس نے جن مسلمانوں کے پاؤں چومے ان میں ایک 23 سالہ شامی نوجوان محمد الحلبی بھی شامل تھا۔ "العربیہ ڈاٹ نیٹ" الحلبی سے پوپ فرانسس کے ساتھ اس کی ملاقات کی تفصیلات معلوم کیں۔ الحلبی کے مطابق "العربیہ ڈاٹ نیٹ" عرب ذرائع ابلاغ میں پہلا ادارہ ہے جس نے اس سے گفتگو کی۔ اس سے قبل الحلبی نے صرف مغربی میڈیا سے ہی بات چیت کی تھی۔

الحلبی کے مطابق وہ شام میں سرکاری فوج کے لیے جبری خدمت سے تنگ آ گیا تھا اور ملک میں جاری خانہ جنگی کے جہنم سے فرار چاہتا تھا۔ عوامی مظاہروں میں شرکت کی وجہ سے اس کا نام شامی حکام کو مطلوب افراد میں شامل تھا۔ الحلبی پہلے اردن گیا پھر وہاں سے سوڈان اور پھر لیبیا کے شہر صبراتہ پہنچا۔ صبراتہ میں وہ اپنا روٹی کا تندور چلا رہا تھا تاہم ملیشیاؤں کی جانب سے دھمکیوں اور تنگ کیے جانے پر وہ اٹلی ہجرت پر مجبور ہوگیا۔

تواضع اور انکساری کا اعلی ترین درجہ

الحلبی نے بتایا کہ وہ 1200 ڈالر کی رقم ادا کر کے سمندر کے راستے اٹلی پہنچا۔ پوپ فرانسس سے ملاقات کے حوالے سے الحلبی نے بتایا کہ وہ اٹلی میں(uxallum) پناہ گزین کیمپ میں مقیم تھا کہ اس دوران کیمپ کے ڈائریکٹر کی طرف سے بتایا گیا کہ اسے پوپ کے سامنے پیش کیے جانے والے پناہ گزینوں میں منتخب کیا گیا ہے جن کی پوپ کے ہاتھوں پاؤں دھلائی اور قدم بوسی ہوگی۔

الحلبی نے بتایا کہ "پوپ سے ملاقات اور میرے قدموں کو چومنا مسیحی مذہب کے کسی بھی روحانی پیشوا کی جانب سے اعلی ترین تواضع اور انکساری کا اظہار تھا۔ بالخصوص جب کہ میں مسلمان اور ایک شامی پناہ گزین تھا۔ اس احساس کو الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا"۔\


صرف 92 یورو

الحلبی نے افسوس کے ساتھ بتایا کہ " پوپ کے ساتھ نمودار ہونے سے مجھے کسی جانب سے بھی مدد یا کام کی پیش کش نہیں موصول ہوئی۔ میں مادی طور پر انتہائی خراب حالات سے دوچار ہوں۔ میرے پاس کوئی روز گار یا ذریعہ آمدنی نہیں ہے۔ میں ایک برس سے پناہ گزین کیمپ میں ماہانہ صرف 92 یورو پر گزارہ کر رہا ہوں۔ میں نے اٹلی کی حکومت سے اپنے لیے روزگار کی درخواست کی تھی تاہم کوئی جواب نہیں ملا"۔

آبادی کاری کے پروگرام میں نام آجانے پر محمد الحلبی اب اٹلی سے منتقل ہو کر فن لینڈ میں زندگی گزار رہا ہے۔

پوپ فرانسس نے 10 دیگر پناہ گزینوں کے بھی پاؤں چُومے

پوپ فرانسس نے مارچ میں ادا کی جانے والی اس خصوصی رسم کے دوران محمد الحلبی کے علاوہ 10 دیگر پناہ گزینوں کے پاؤں دھو کر ان کی قدم بوسی کی تھی۔ ان میں پاکستان اور مالی سے 2 مسلمان ، بھارت سے 1 ہندو ، اریٹریریا سے 3 قبطی خواتین اور نائیجیریا سے 4 کیتھولک مسیحی شامل ہیں۔

ان کے علاوہ پوپ نے خصوصی مرکز میں پناہ گزینوں کا استقبال کرنے والی اطالوی خاتون اہل کار کے بھی پاؤں چومے۔ وزارت داخلہ کے زیر انتظام مرکز میں 25 ملکوں سے تعلق رکھنے والے 892 پناہ گزین کا اندراج ہے جن میں اکثریت مسلمانوں کی ہے۔

اس رسم کے بعد حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے پوپ فرانسس نے واضح کیا کہ انہوں نے "بھائی چارگی" کا یہ اظہار اُن لوگوں کے جواب میں کیا ہے جو امن سے نہیں رہنا چاہتے اور جنگوں اور تباہی کی منصوبہ بندی میں مصروف عمل رہتے ہیں۔