.

ایرانی کھلاڑی کے رُسوا کن انکشافات پر عوام ہکّا بکّا !

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کی جوڈو کی ٹیم کے کپتان "وحید بنا" نے فیس بک سمیت سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی ایک وڈیو میں انکشاف کیا ہے کہ ان کے ملک میں وجوڈو فیڈریشن کے عہدے دار کھلاڑیوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ بیرونی دوروں کے دوران وہ ہوٹلوں میں پینے کا پانی اور صبح کا ناشتہ چوری کریں۔

ایرانی ٹیم کے کپتان نے مزید بتایا کہ فیڈریشن عہدے دار ہوٹل میں دو بستروں والا ایک کمرہ بک کرواتے ہیں اور پھر ٹیم کے بقیہ کھلاڑیوں جن کی تعداد پانچ یا چھ ہوتی ہے ، ان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ہوٹل کے استقبالیہ سے اجازت کے بغیر اسی کمرے میں داخل ہوجائیں۔ اس اقدام کی بنیادی وجہ بجٹ میں سنگین کمی کے باعث ایرانی فیڈریشنوں کی کفایت شعاری ہے۔

وحید بنا کے مطابق فیڈریشن کے عہدے دار ٹیم کے دو کھلاڑیوں کو جن کے نام استقبالیہ کے پاس مندرج ہوتے ہیں ، کمرے میں غیرقانونی طور پر مقیم بقیہ کھلاڑیوں کے لیے ناشتہ لینے کے واسطے بھیجتے ہیں .. تاکہ بڑی رقم ادا نا کرنی پڑے۔

وحید بنا نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ایرانی ذمے داران جو عام طور پر سکیورٹی فورسز سے تعلق رکھتے ہیں ، کھلاڑیوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ سرکاری میچ کے ہال میں پھیلی ہوئی منرل واٹر کی بوتلیں جمع کر کے ہوٹل لے کر آئیں.. ایرانی کھلاڑیوں کا یہ عمل تماشائیوں اور دیگر ٹیموں کے کھلاڑیوں کے سامنے تضحیک اور شرمندگی کا باعث بنتا ہے۔

مذکورہ اعترافات نے ایرانی حلقوں بالخصوص سوشل میڈیا کے صارفین کے اندر سنسنی پیدا کر دی ہے۔ اس سلسلے میں یہ سوال اٹھائے جا رہے ہیں کہ یمن ، شام اور لبنان میں فرقہ وارانہ ملیشیاؤں پر مالی رقوم بہانے کی کیا وجوہات ہیں جب کہ کھیلوں کے مقابلوں میں ایرانی کھلاڑیوں کو اپنی پیاس بجھانے کے واسطے پانی کی بوتلیں چرانے پر مجبور ہونا پڑتا ہے۔

ایران کی فٹ بال ٹیم کے سابق کپتان علی دائی نے فیس بک پر اپنے صفحے پر ایک وڈیو پوسٹ کی ہے جس میں انہوں نے وحید بنا کی دلیری اور جرات کو سراہا ہے۔ واضح رہے کہ اس نوعیت کے اسکینڈلوں کا انکشاف کرنے پر ایرانی کھلاڑی کو قومی ٹیم کی نمائندگی سے تاحیات محروم کیا جا سکتا ہے۔