.

بھارتی وزیر اعظم بیدار ہو کر کیا کرتے ہیں ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تصاویر لینے کے سلسلے میں "سيلفی" کا نیا انداز اور اسلوب متعارف ہونے کے بعد بھارت میں اس کے سبب ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ گزشتہ ماہ ایک امریکی یونی ورسٹی کی جانب سے جاری رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ اس نوعیت کی تصویر کشی کے دوران دنیا بھر میں ہلاک ہونے والے افراد کی نصف تعداد صرف بھارت میں تھی۔ یہاں ایک سال کے دوران 76 اموات کا اندراج ہوا۔

بھارت میں دن بدن سیلفی کا شکار زخمی یا ہلاک افراد کی تعداد میں کیوں اضافہ ہوتا جا رہا ہے؟ اس کا بنیادی طور پر ایک ہی جواب دیا جاتا ہے کہ بھارتی شہری اپنے وزیراعظم سے متاثر ہو کر اس عادت کے بخار میں مبتلا ہیں۔ نریندر مودی کو سیلفی سے گویا کہ عشق ہے، وہ اپنے دوروں میں سرکاری پروٹوکول کو بالائے طاق رکھتے ہوئے فورا اپنی جیب سے موبائل فون نکال لیتے ہیں اور پھر اپنے میزبان یا اپنے مہمان کے ساتھ سیلفی بنا کر ہی دم لیتے ہیں۔ اگر کوئی تقریب یا موقع نہیں بھی ہوتا تو مودی موبائل ہاتھ میں تھام کر کسی بھی ٹھوس وجود کے پاس کھڑے ہو کر اپنا "سیلفی" کا شوق پورا فرما لیتے ہیں۔

"العربیہ ڈاٹ نیٹ" نے مخلتف مواقع پر مودی کی سیلفی تصاویر کو جمع کیا۔ ان تصاویر سے یہ احساس ہوتا ہے کہ لوگ اب یہ جان گئے ہیں کہ بڑھاپے سے متاثرہ مودی کے چہرے پر مسکراہٹ لانے کا آسان ترین طریقہ یہ ہے کہ ان کے سامنے اچانک سے "سیلفی" کا فلیش کھول دیا جائے اس سے قبل کہ وہ خود ایسا کریں۔

بھارتی وزیراعظم کے جنون کی حد تک سیلفی کے شوق پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک بھارتی شہری نے کہا کہ " نریندر مودی سو کر اٹھنے کے بعد سب سے پہلا کام جو کرتے ہیں وہ اپنے تکیے کے ساتھ سیلفی ہے"۔

مودی جو بچپن میں اپنے والد کے ساتھ بسوں کے اڈے پر چائے فروخت کرنے میں ان کی مدد کیا کرتے تھے.. اپنے عوام کو متاثر کرنے کے لیے مختلف طریقے اپناتے رہتے ہیں۔ کبھی وہ کہتے ہیں کہ انسان اپنے پاس موجود سادے سے کپڑوں کے ذریعے ہی نفیس نظر آ سکتا ہے اور کبھی وہ لوگوں کو مخاطب کر کے کہتے ہیں کہ اپنی 35 برس پر محیط سرکاری نوکری کے دوران انہوں نے کئی مرتبہ دیگر ملکوں کے سفر کیے مگر کبھی کسی خاص کھانے کی شرط نہیں لگائی بلکہ جو آسانی سے دستیاب ہوا وہ کھا لیا۔ وہ بھارت میں ہوتے ہیں تو "کچھڑی" بہت شوق سے کھاتے ہیں۔

ایک مرتبہ انٹرویو میں میزبان نے مودی سے پوچھا کہ وہ کام سے کب تھک جاتے ہیں ؟ جواب میں مودی کا کہنا تھا کہ " حقیقت تو یہ ہے کہ میں اس وقت تھک جاتا ہوں جب کام نہیں کرتا ، کام سے آپ کو اطمینان حاصل ہوتا ہے اور یہ اطمینان آپ کے جسم میں پھر سے توانائی بھر دیتا ہے۔ جب آپ اپنی پسند کی جگہ کام کر رہے ہوں تو ہر گز تھکن محسوس نہیں کرتے"۔